بحرین کی پہلی اعلیٰ فوجداری عدالت نے ایک خاتون کو تین سال قید اور دو ہزار دینار جرمانے کی سزا سنائی ہے۔ اس پر گھریلو ملازمہ کو بغیر تنخواہ کے کام کرنے پر مجبور کرنے کا الزام عاید کیا جاتا ہے۔ عدالت نے متاثرہ خاتون کو اس کے ملک واپس جانے کے اخراجات ادا کرنے اور اس کے دیگر تمام واجبات ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔
بحرین کے اخبارات کے مطابق متاثرہ لڑکی نے لیبر مارکیٹ ریگولیٹری اتھارٹی کو رپورٹ جمع کرائی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ ملزمہ نے کام پر اس کا زبردستی استحصال کیا۔ اس نے اسےبغیر تنخواہ کے طویل کام کے اوقات میں کام پر مجبور کیا۔ حتیٰ کہ اسے چھٹی تک نہیں دی۔
وہ ملزمہ کے لیے گھریلو ملازم کے طور پر کام کرنے آئی اور تقریباً تین سال تک کام کرتی رہی۔ اس دوران اسے نے صرف ڈیڑھ سال کی اجرت ملی۔
میں نے ملزم کے لیے مزید ڈیڑھ سال بغیر تنخواہ کے کام کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ فرار ہونے میں کامیاب ہوگئی اور اپنے ساتھ پیش آنے والے حالات سے قانون نافذ کرنے والوں کوتفصیلات سے آگاہ کیا۔
پولیس کی تفتیش سے یہ بات واضح ہوئی ہے کہ متاثرہ خاتون جو کہ گھریلو ملازمہ تھی ملزمہ کے لیے بغیرتنخواہ کام کرتی تھی۔ بعد ازاں خاتون نے ملازمہ کو طے شدہ 70 دینار کے بجائے 50 دینار ہی دیے۔