ایران نے منگل کے روز اسرائیل کی طرف سے تہران میں حماس کے سابق سربراہ اسماعیل ہنیہ کے قتل کے "ڈھٹائی اور بے باکی پر مبنی اعتراف" کی مذمت کی۔ ایران نے الزام لگایا کہ ملک نے "وحشیانہ جرم" کا ارتکاب کیا اور اسرائیل پر اپنے جوانی میزائل حملے کا دفاع کیا ہے۔
اقوامِ متحدہ میں ایران کے سفیر امیر سعید ایروانی نے سکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس کو ایک خط میں کہا، "یہ بیباکانہ اعتراف پہلی بار ہے جب اسرائیلی حکومت نے اس وحشیانہ جرم کے لیے اپنی ذمہ داری کا کھلے عام اعتراف کیا ہے۔"
پیر کے روز اسرائیل کے وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے اعتراف کیا تھا کہ ان کا ملک اس قتل کا ذمہ دار تھا۔ یہ پہلا باضابطہ اعتراف تھا۔
غزہ میں جنگ بندی کے لیے حماس کی مذاکراتی ٹیم کے قائد سمجھے جانے والے ہنیہ کو 31 جولائی کو تہران کے ایک گیسٹ ہاؤس میں مبینہ طور پر ایک دھماکہ خیز آلے کے ذریعے قتل کر دیا گیا تھا جو اسرائیلی کارندوں نے کئی ہفتے قبل نصب کیا تھا۔
پیر تک اسرائیل نے کبھی بھی ہنیہ کو قتل کرنے کا اعتراف نہیں کیا تھا لیکن ایران اور حماس نے ان کے قتل کے لیے اسرائیل کو ذمہ دار قرار دیا تھا۔
اکتوبر میں ایران نے کہا کہ اس نے اسرائیل پر 200 میزائل داغے جو بظاہر اس قتل کا ردِ عمل تھا۔ اسرائیل نے کہا کہ زیادہ تر میزائل یا تو اس کے اپنے فضائی دفاعی نظام نے یا اتحادی فضائی افواج نے روک لیے تھے۔
منگل کے روز اقوامِ متحدہ میں ایرانی سفیر ایروانی نے اسرائیل کی جانب سے ہنیہ کے قتل کو "وحشیانہ اور دہشت گردانہ اقدام" قرار دیتے ہوئے مزید کہا کہ کاٹز کے بیان سے ظاہر ہوا کہ ایران اسرائیل پر جوابی حملہ کرنے میں حق بجانب تھا۔
انہوں نے کہا، "اس اعتراف سے یکم اکتوبر 2024 کو ایران کے دفاعی ردِ عمل کے جواز اور قانونی حیثیت کے ساتھ ساتھ اس مستقل مؤقف کی بھی تصدیق ہو جاتی ہے کہ اسرائیل کی قابض اور دہشت گرد حکومت علاقائی اور بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے سنگین ترین خطرہ ہے۔"
اسرائیل نے 27 ستمبر کو حزبِ اللہ کے قائد حسن نصر اللہ کو بیروت میں اور 16 اکتوبر کو حماس کے قائد یحییٰ سنوار کو غزہ میں قتل کر دیا تھا۔ اسرائیلی حکام کے مطابق سنوار سات اکتوبر 2023 کو حماس کے اسرائیل پر حملے کا منصوبہ ساز تھے۔