الاسد خاندان کی حکومت سے آزادی کے بعد دمشق میں پہلی بار سالِ نو کا جشن

نصف صدی سے زیادہ عرصے کے بعد شامیوں نے یہ دن دیکھا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

دمشق کا امویین سکوائر "انقلاب" کے پرچم لہرانے والے جمِ غفیر کے شور سے گونج اٹھا جب شام میں 13 سالہ خانہ جنگی کے بعد نئی "امیدوں" کے ساتھ پہلی بار سالِ نو کا استقبال کیا گیا۔

سکوائر پر اے ایف پی کے ایک رپورٹر نے دارالحکومت کے سامنے کوہِ قاسیون سے گولیوں کی آوازیں سنیں جہاں سینکڑوں لوگوں نے آتش بازی کا نظارہ کیا۔

دسمبر میں بشار الاسد کے خاتمے کے بعد یہ سالِ نو کا اولین جشن تھا جو 50 سال سے زیادہ عرصے تک الاسد خاندان کے اقتدار کے بعد دیکھنے کو ملا۔

بعض بچے خوشی سے چلائے، "شام زندہ باد! اسد کا اقتدار ختم ہو گیا۔"

الاسد کے غیر متوقع زوال کے ایک ماہ سے بھی کم وقت کے بعد خوشی اور موج مستی کے باوجود فوجیوں نے دمشق کی سڑکوں پر گشت کیا۔

سبز، سفید اور سیاہ "انقلابی" پرچم اپنے تین سرخ ستاروں کے ساتھ پورے دارالحکومت میں لہرا رہا ہے۔

یہ نظارہ جو الاسد خاندان کی آہنی حکمرانی کے خلاف شامی عوام کی بغاوت کی علامت ہے، ایک ماہ قبل ناقابلِ تصور تھا۔

شامی گلوکار اصالۃ نصری کا انقلابی نغمہ "اپنا سر اٹھاؤ، تم ایک آزاد شامی ہو" امویین سکوائر پر بلند آواز میں گونجا۔

ایک 34 سالہ ٹیکسی ڈرائیور قاسم القاسم نے الاسد کے دور میں تباہ حال معیشت کے حوالے سے اے ایف پی کو بتایا، "ہر سال ہماری عمر اچانک 10 سال بڑھ جاتی ہے۔ لیکن حکومت کے زوال کے ساتھ ہمارے تمام خدشات دور ہو گئے ہیں۔"

انہوں نے مزید کہا، "اب مجھے بہت امیدیں ہیں۔ لیکن اب ہم صرف امن چاہتے ہیں۔"

تیرہ سالہ خانہ جنگی میں نصف ملین سے زیادہ لوگ ہلاک ہوئے کیونکہ ملک مختلف متحارب فریقوں کے زیرِ قبضہ مختلف علاقوں میں تقسیم ہو گیا۔

کئی خاندان اب بھی اپنے عزیزوں کے بارے میں کسی خبر کے منتظر ہیں جو الاسد کے دور حکومت میں لاپتہ ہو گئے تھے۔ اس عرصے کے دوران دسیوں ہزار قیدی غائب ہو گئے تھے۔

شمال مشرق سے تعلق رکھنے والے اور دارالحکومت میں شعبہ فارمیسی کے ایک کرد طالب علم ہوان محمد نے کہا، "مجھے امید ہے کہ 2025 میں شام بغیر کسی استثنا کے اور سب کے لیے غیر فرقہ پرست، کثرت پسند ملک ہو گا۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں