سفارتی اور فوجی دو ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ فرانسیسی وزیر خارجہ جین بوئل بیرو اور سیریئن ڈیموکریٹک فورسز ( ایس ڈی ایف) کے کمانڈر انچیف مظلوم عبدی کے درمیان براہ راست فون پر بات ہوئی ہے۔
ایس ڈی ایف کی افواج حلب گورنری کے شمال مشرقی دیہی علاقوں میں تشرین ڈیم اور منبج شہر کے قریب 4 ہفتوں سے ترکیہ کے حمایت یافتہ شامی گروپوں کےحملے کا سامنا کر رہی ہیں۔
دمشق سے سفارتی ذرائع نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ فرانسیسی وزیر نے جمعہ کی صبح دارالحکومت پہنچنے پر ایس ڈی ایف کے کمانڈر کو فون کال کی۔ بعد میں انہوں نے اپنے جرمن ہم منصب کے ساتھ پریس کانفرنس کی۔ ان دونوں نے شام کی نئی انتظامیہ کے رہنما احمد الشرع سے بھی ملاقات کی۔ اس ملاقات میں شمال میں ہونے والی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
سفارتی ذرائع کے مطابق مظلوم عبدی کے ساتھ اپنی کال میں فرانسیسی وزیر خارجہ نے تشرین ڈیم پر انقرہ کے حمایت یافتہ دھڑوں کے حملوں سے متعلق پیشرفت اور شامی کرد شہر ’’ کوبانی‘‘ کو نشانہ بنانے والے ممکنہ حملے کے حوالے سے ترکی کی مسلسل دھمکیوں پر تبادلہ خیال کیا۔ واضح رہے کوبانی کو "عین العرب" بھی کہا جاتا ہے۔
ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ فرانسیسی وزیر نے ایس ڈی ایف کمانڈر پر اس بات کی ضرورت پر زور دیا کہ وہ گزشتہ دسمبر کے اوائل میں بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد عبوری مرحلے میں اپنی افواج کا کردار ادا کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سلسلے میں ایس ڈی ایف اور ترک حمایت یافتہ گروپوں میں ایک "پائیدار" جنگ بندی کی ضرورت ہے۔
اس کے علاوہ SDF کمانڈر کے ایک اور قریبی ذریعے نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا ہے کہ مظلوم عبدی اور فرانسیسی وزیر نے داعش سے نمٹنے کی کوششوں پر بھی بات چیت کی ہے۔خاص طور پر جب سے فرانس نے چند روز قبل شام میں شدت پسند تنظیم کے ٹھکانوں پر دوبارہ فضائی حملے شروع کیے تھے۔
پرامن سیاسی تبدیلی
آج صبح دمشق میں اپنی پریس کانفرنس میں فرانسیسی وزیر نے شامی امنگوں کے مطابق پرامن سیاسی منتقلی کے لیے اپنے ملک کی حمایت پر زور دیا۔ فرانسیی وزیر نے شام کی نئی انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ ایک ایسی بات چیت کا آغاز کرے جس میں عوام کے تمام اجزا اکٹھے ہوں۔
انہوں نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ شام خودمختار، مستحکم اور پرسکون رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایک ماہ سے بھی کم عرصہ قبل شامی خواتین اور مردوں کے متحرک ہونے کی بدولت ایک نئی امید ابھری ہے، یہ ایک حقیقی مگر کمزور امید ہے۔ انہوں نے کہا کہ شامی آئین کے مسودے کے لیے تکنیکی اور قانونی مدد فراہم کرنے کے لیے ان کا ملک تیار ہے۔
شام کے کرد علاقوں میں کام کرنے والی سول سوسائٹی کی تنظیموں کے نمائندوں کے ایک ہجوم کے سامنے فرانسیسی وزیر خارجہ نے نشاندہی کی کہ شام کو محفوظ اور خودمختار ہونا چاہیے۔ یہاں جنگ کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہنی چاہیے۔ اتحادیوں کے ساتھ معاہدے کے ذریعے سیاسی حل قائم کرنا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پوری شامی سرزمین پر جنگ بندی ہونی چاہیے۔ کردوں کے لیے ایک سیاسی حل ہونا چاہیے تاکہ وہ شامی ریاست میں ضم ہو جائیں اور پھر ایک مستقل جنگ بندی تک پہنچ جائیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم ہمیشہ شمالی اور مشرقی شام میں کردوں کے ساتھ کھڑے ہوئے اور اب بھی کھڑے ہیں۔ 31 جنوری کو ہم نے داعش کے ایک ٹھکانے پر حملہ کیا تھا۔
کردوں کے ساتھ سیاسی حل
فرانسیسی وزیر خارجہ نے شام میں نئی انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ کردوں کے ساتھ ایک "سیاسی حل" تک پہنچیں۔ کرد ملک کے شمال مشرق کے وسیع علاقوں پر قابض ہیں۔ بیرو نے شام کی سول سوسائٹی کے نمائندوں کے ساتھ اپنی ملاقات کے دوران یہ بھی کہا کہ فرانس کے اتحادی کردوں کے ساتھ ایک سیاسی حل تلاش کیا جانا چاہیے۔
-
کردوں کے زیرِ قیادت شام کی ایس ڈی ایف اور انقرہ کے حامی گروہوں میں جھڑپیں: 24 افراد ہلاک
ایک جنگی نگران نے جمعرات کو بتایا کہ شمالی ضلع منبج میں کردوں کے زیرِ قیادت سیریئن ...
مشرق وسطی -
شام : احمد الشرع سے مسیحی اقلیتی رہنماؤں اور کرد کمانڈروں کے وفود کی ملاقاتیں
شامی عبوری حکومت کے قائد احمد الشرع سے پیر اور منگل کے روز مسیحی مذہب اور کردوں ...
مشرق وسطی -
شامی کرد جنگجوؤں نے ہتھیار نہ پھینکے تو انہیں دفن کر دیں گے، ایردوان
ترکیہ کے صدر طیب ایردوان نے انتباہ کیا ہے کہ کرد جنگجو ہتھیار پھینک دیں یا پھر دفن ...
مشرق وسطی