رفح گزر گاہ ہماری فوج کے حصار میں ہے، کسی کو گزرنے کی اجازت نہیں : نیتن یاہو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اگرچہ اتوار کے روز نافذ العمل ہونے والا غزہ میں فائر بندی کا معاہدہ پوری غزہ کی پٹی سے جس میں مصر کے ساتھ سرحدی گزر گاہ رفح شامل ہے، بتدریج انخلا پر زور دیتا ہے تاہم ایسا نظر آتا ہے کہ اسرائیل اس حوالے سے کوئی دوسری رائے رکھتا ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نتین یاہو کے دفتر نے آج بدھ کے روز اعلان کیا ہے کہ اگرچہ فلسطینی اتھارٹی یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہی ہے کہ وہ رفح گزر گاہ پر کنٹرول رکھتی ہے تاہم یہ درست نہیں۔

دفتر کی جانب سے جاری بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ معاہدے کی رو سے اسرائیلی فوج مذکورہ گزر گاہ کا محاصرہ رکھے گی اور کوئی بھی اسرائیلی فوج اور جنرل سیکورٹی کے ادارے شاباک کی نگرانی اور پیشگی منظوری کے بغیر اسے عبور نہیں کر سکے گا۔

بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ گزر گاہ کے اندر تکنیکی انتظامی امور حماس کی جانب سے نہیں بلکہ غزہ کے فلسطینی شہریوں کی جانب سے انجام دیے جا رہے ہیں۔ ان افراد کو بھی شاباک کی جانب سے تلاشی کے عمل سے گزرنا پڑتا ہے اور ان میں غزہ کی پٹی میں شہری خدمات مثلا بجلی، پانی اور نکاسی آب وغیرہ کے شعبوں میں کام کرنے والے افراد بھی شامل ہیں۔

اسی طرح ان افراد کے کام کی نگرانی بین الاقوامی فورس EUBAMبھی کر رہی ہے۔

مزید کہ فلسطینی اتھارٹی کی عملی مداخلت پاسپورٹوں پر مہر لگانے تک محدود ہے۔ یہ واحد مہر ہے جو غزہ کی پٹی کے لوگوں کو دیگر ممالک میں داخلے کے لیے کوچ کی اجازت دیتی ہے۔

واضح رہے کہ جنگ بندی معاہدے کی رو سے رفح کی گزر گاہ کو معاہدے کے نافذ العمل ہونے کے ساتویں روز یعنی آئندہ ہفتے کے روز کھولا جائے گا۔

اسی طرح یہ معاہدہ انسانی امداد کی منتقلی کے لیے رفح کراسنگ کے راستے روزانہ غزہ میں 600 ٹرکوں کے داخلے کی اجازت دیتا ہے۔ داخلے سے قبل کرم ابو سالم کراسنگ پر ان ٹرکوں کی تلاشی ہوتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں