سعودی عرب کے شعبۂ صحت کو تقویت دینے کے لیے اس ہفتے بڑے طبی اقدامات کی نقاب کشائی کی گئی ہے جن میں ایک جدید ترین آنکولوجی سینٹر اور فارمیسی چین کی ایک بڑی توسیع شامل ہے۔ یہ اقدامات مملکت میں نجی شعبے کی بڑھتی ہوئی شمولیت کی نمائندگی کرتے ہیں۔
دبئی میں عرب ہیلتھ 2024 کے موقع پر کئے گئے اعلانات مملکت کی کوششوں میں اہم پیشرفت کی نشاندہی کرتے ہیں جو وہ وژن 2030 کے تحت اپنے طبی شعبے کو تبدیل کرنے کی غرض سے کر رہی ہے۔
کینسر کی نگہداشت میں پیش رفت
جانز ہاپکنز آرامکو ہیلتھ کیئر (جے ایچ اے ایچ) جو 2014 میں سعودی آرامکو اور جانز ہاپکنز میڈیسن کے درمیان مشترکہ تعاون کے طور پر قائم کیا گیا تھا، سعودی عرب میں ایک آنکولوجی سینٹر آف ایکسیلنس کا آغاز کر رہا ہے۔
العربیہ سے بات کرتے ہوئے جے ایچ اے ایچ کے چیف آف سٹاف ڈاکٹر جین جیکس ڈی گورٹر نے تنظیم کے مقاصد کی وضاحت کی۔
"ہمارا مشن سادہ لیکن پرعزم ہے: طبی تعلیم و تحقیق کو آگے بڑھاتے ہوئے مملکت میں عالمی معیار کی طبی نگہداشت کو مزید قابل رسائی بنانا جو مریض پر مرکوز ہو۔ وژن 2030 سے مطابقت رکھتے ہوئے ہم صرف آج کے صحت کے چیلنجز کو ہی حل نہیں کر رہے ہیں بلکہ ایک ذہین تر، زیادہ پائیدار نظامِ صحت بنا رہے ہیں جو مملکت کی آئندہ نسلوں کی خدمت کرے گا۔"
اس تعاون کے ذریعے جے ایچ اے ایچ نے علم کے اشتراک پر مبنی 50 سے زیادہ پروگرام بشمول آنکولوجی، کارڈیالوجی، نیورولوجی، اور عضلاتی صحت کے شعبوں میں شروع کیے ہیں۔
وقت بہت اہمیت کا حامل ہے کیونکہ نیشنل لائبریری آف میڈیسن کے مطابق جی سی سی ممالک میں کینسر کی شرح 2020 اور 2040 کے درمیان 140 فیصد سے زیادہ بڑھنے کا امکان ہے۔ یہ خطے میں صحت کے سب سے بڑے چیلنجز میں سے ایک ہے۔ آبادی میں اضافہ، عمر کا بڑھنا اور طرزِ زندگی میں تبدیلیاں کلیدی محرکات ہیں پھر بھی تاخیر سے تشخیص اور خصوصی علاج تک محدود رسائی اس سلسلے میں اہم رکاوٹیں ہیں۔
یہ طبی مرکز چھاتی، کولوریکٹل اور پروسٹیٹ کینسر کے علاج پر توجہ مرکوز کرے گا جو اس خطے میں کینسر کی سب سے زیادہ تشخیص شدہ اقسام ہیں۔
یہ مرکز جدت، انفرادی ضروریات اور رسائی کو مرکزی حیثیت دیتے ہوئے کینسر کے علاج کو ایک نئی صورت دے رہا ہے۔
ترجمان نے العربیہ کو بتایا، اے آئی سے چلنے والی تشخیص اور درست علاج کو مربوط کرکے ہم ہر مریض کے لیے علاج تیار کر رہے ہیں جس کے نتیجے میں طبی نتائج اور معیارِ زندگی بہتر ہو گا۔
ڈاکٹر نے کہا، جدید علاج کے علاوہ رسائی کلیدی اہمیت کی حامل ہے۔
"طبی مرکز سکریننگ اور تشخیص سے لے کر علاج اور بعد از علاج نگہداشت تک مریضوں کے پورے سفر کو ہموار اور آسان کر رہا ہے۔ یہ طبی مداخلتوں کو تیز، تاخیر کو کم اور گھر کے قریب عالمی معیار کے علاج کی فراہمی کو یقینی بنا رہا ہے۔"
ریٹیل فارمیسی کی توسیع
متوازی پیش رفت میں ایسٹر فارمیسی نے الحکیر ہولڈنگ گروپ کے ساتھ مشترکہ منصوبے کے ذریعے سعودی عرب میں اپنی موجودگی کو نمایاں طور پر بڑھانے کے منصوبوں کا اعلان کیا۔
العربیہ سے بات کرتے ہوئے ایسٹر ریٹیل کے سربراہ این ایس بالاسوبرامانیان نے کہا، "سعودی عرب میں ایسٹر فارمیسی اگلے پانچ سالوں میں 200 تک سٹورز قائم کرنے کے سفر پر گامزن ہے۔"
اس گروپ نے اگلے پانچ سالوں میں سعودی عرب میں توسیع کے لیے تقریباً 250 ملین ڈالر مختص کیے ہیں جس میں صحت کی سہولیات، ہسپتالوں اور صحت کی متعلقہ خدمات کا حصول شامل ہے۔
وژن 2030
ویژن 2030 کے تحت سعودی حکومت ملک کے صحت کے بنیادی ڈھانچے کو ترقی دینے، صحت کی خدمات اور انشورنس کی تنظیمِ نو اور اسے نجی بنانے، ملک بھر میں 21 "ہیلتھ کلسٹرز" شروع کرنے اور ای-ہیلتھ سروسز کی فراہمی میں اضافے کے لیے 65 بلین ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ حکومت کا مقصد 2030 تک نجی شعبے کی شراکت کو 40 فیصد سے بڑھا کر 65 فیصد کرنا ہے جس میں 290 ہسپتالوں اور 2300 بنیادی مراکزِ صحت کی نجکاری کا ہدف ہے۔
طبی سیاحت کا علاقائی مرکز
نیا آنکولوجی سنٹر خطے میں سعودی عرب کے طبی سیاحت کا مقام بننے کے عزائم میں مدد کے لیے تیار ہے۔
جے ایچ اے ایچ کے ترجمان نے العربیہ کو بتایا، "تاریخی طور پر جی سی سی کے کئی مریضوں نے کینسر کے علاج کے لیے بیرونِ ملک سفر کیا لیکن اس سہولت کے ساتھ ہم مملکت میں بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ اور آنکولوجی کے عالمی سطح کے علاج کی پیشکش کر رہے ہیں۔"
اس مرکز میں جدید تابکاری تھراپی، مصنوعی ذہانت کی مدد سے روبوٹک سرجری اور درست ادویات کی صلاحیتیں شامل ہوں گی۔ یہ کلینیکل ٹرائلز اور ادویات کی تیاری کے ایک مرکز کے طور پر بھی کام کرے گا جس سے نئے علاج تک رسائی میں سہولت ملے گی۔
ڈاکٹر ڈی گورٹر نے کہا، "کلینیکل ٹرائلز اور ادویات کی تیاری کے ایک مرکز کے طور پر یہ نئے علاج تک رسائی میں سہولت فراہم کرے گا جس سے مریضوں کے لیے علاج کے اختیارات وسیع ہوں گے۔"
ڈیجیٹل ہیلتھ کیئر کا انضمام
ایسٹر فارمیسی اپنی مائی ایسٹر ایپ شروع کرکے سعودی عرب میں اپنی ڈیجیٹل موجودگی کو وسعت دے گی جہاں صارفین کو نسخے اور صحت و تندرستی کی مصنوعات دونوں ان کی دہلیز پر مل سکتی ہیں۔
سعودی عرب کی صلاحیت کے بارے میں بات کرتے ہوئے بالاسوبرامانیان نے کہا: "سعودی مارکیٹ ایک انتہائی پرجوش اور پرکشش مارکیٹ ہے۔ سب سے پہلے تو اس کی بہت بڑی آبادی ہے، پھر مملکت میں جس قسم کی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں تو سرمایہ کاری اور مختلف قومیتوں کے لوگ اور ایک متنوع افرادی قوت اس کی طرف راغب ہو رہی ہے۔"
انہوں نے مزید کہا، "ویژن 2030 اور ریاض کی آبادی میں تیزی سے اضافہ کرنے کے وژن کے ساتھ - جس میں ایکسپو 2030 سے لے کر فیفا ورلڈ کپ 2034 تک بعض بڑے ایونٹس - یہ مملکت کے لیے ایک بہت ہی دلچسپ اور جوش و خروش سے بھرپور وقت ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ اس سفر کا حصہ بنیں۔"
-
عمرہ زائرین مقدس مقامات کے لیے سعودی کوششوں کے مداح
خادم حرمین شریفین کے مہمانوں کے تیسرے عمرہ ادا کرنے والے گروپ نے سعودی عرب کی مقدس ...
مشرق وسطی -
سعودی عرب: ہائی سکول کے طلبہ کو قومی لباس کی پابندی کی ہدایت
سعودی وزارت تعلیم نے سرکاری اور نجی ثانوی سکولوں کے طلبہ کو پابند کردیا ہے کہ وہ ...
بين الاقوامى -
سعودی ویژن 2030، پاکستان ہنر مند کارکنوں کو بھیجنے کے لیے تیار
پاکستان کے وفاقی وزیر برائے افرادی قوت و ترقیات چودھری سالک حسین نے کہا ہے کہ ...
پاكستان