ہم غزہ معاہدے پر کار بند رہنے کے لیے پر عزم ہیں، حماس نے خلاف ورزی کی: اسرائیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

پیر کو حماس کی جانب سے قیدیوں کی رہائی کو اگلے نوٹس تک ملتوی کرنے کے اعلان کے بعد اسرائیل نے ردعمل ظاہر کیا ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے دفتر نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کی پاسداری کے لیے پرعزم ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ حکومت غزہ معاہدے کی کسی بھی خلاف ورزی کو سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے۔ حکومت غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کی پاسداری کے لیے پرعزم ہے۔

اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے کہا ہے کہ یرغمالیوں کی رہائی روکنے کا حماس کا اعلان جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق انھوں نے اعلان کیا کہ انھوں نے فوج کو غزہ میں تیاری کے اعلیٰ ترین سطح پر رہنے کا حکم دے دیا ہے۔

ایک اسرائیلی عہدیدار نے کہا ہے کہ غزہ معاہدے کا خاتمہ کسی کے مفاد میں نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ قیدیوں کی حوالگی کا عمل معطل کرنا ایک بحران ہے جسے حل کیا جاسکتا ہے۔

یہ پیش رفت پیر کے روز حماس کے اس اعلان کے بعد سامنے آئی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ یرغمالیوں کی رہائی کو اس وقت تک ملتوی کردیا گیا ہے جب تک اسرائیل اس معاہدے کی تعمیل نہیں کر لیتا۔

القسام بریگیڈ کے ترجمان ابو عبیدہ نے پیر کو ایک بیان میں تصدیق کی کہ حماس نے تبادلے کو اگلے اطلاع تک ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جن قیدیوں کو اگلے ہفتہ 15 فروری کو رہا کیا جانا تھا، ان کی رہائی ملتوی کردی گئی ہے۔

ابو عبیدہ نے کہا کہ اسرائیل نے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بے گھر ہونے والوں کی واپسی میں تاخیر کی ہے۔ انہیں بمباری سے نشانہ بنایا ہے اور غزہ میں خوراک کی فراہمی میں تاخیر بھی کی ہے۔ دوسری طرف حماس نے اپنی تمام ذمہ داریاں پوری کی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں