سعودی عرب کی وزارتِ خارجہ نے اتوار کے روز لبنان کے صدر جوزف عون اور وزیرِ اعظم نواف سلام کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے ان اقدامات کی حمایت کی ہے جو "لبنانی شہریوں کی سلامتی کو خراب کرنے والی کوششوں" کے خلاف کیے گئے ہیں۔
مملکت نے اپنے بیان میں لبنانی ریاست کی جانب سے "یونی فِل امن مشن پر حملے کے جواب میں ٹھوس رویہ" اختیار کرنے پر بھی تعریف کی۔
یاد رہے کہ بیروت ایئرپورٹ پر ایرانی پروازوں کو اترنے سے روکنے کے لیے اسرائیل نے دھمکی دی تھی جس پر حالیہ کشیدگی کے بعد سعودی بیان سامنے آیا ہے۔
اسرائیلی فوج نے تہران پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ حزب اللہ کو مسلح کرنے کی غرض سے بیروت میں نقدی سمگل کرنے کے لیے شہری طیاروں کا استعمال کر رہا ہے۔
اس کے جواب میں حزب اللہ کے حامیوں کا لبنانی فوج سے تصادم ہوا اور انہوں نے احتجاجاً بیروت ایئرپورٹ جانے والی سڑک بند کر دی۔
جمعہ کے روز بیروت میں اقوامِ متحدہ کی عبوری فوج (یونی فِل) کے قافلے پر حملے سے موجودہ تناؤ میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ اس کے بارے میں یونی فِل نے کہا کہ فوج کا سبکدوش ہونے والا ڈپٹی کمانڈر زخمی ہو گیا تھا۔
لبنانی حکام نے اس حملے کے سلسلے میں 25 سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا ہے جس کے بارے میں امریکی محکمۂ خارجہ نے کہا ہے کہ یہ "مبینہ طور پر حزب اللہ حامیوں کے ایک گروپ نے" کیا۔
سعودی عرب نے عون، سلام اور لبنانی فوج کی طرف سے "سلامتی و استحکام" کو یقینی بنانے کے لیے کیے گئے اقدامات کی حمایت کی ہے۔