سعودی عرب میں پیدل مہم جوئی کرنے والی برطانوی خاتون نے کیا دیکھا ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

برطانوی خاتون صحافی Alic Morrison (ایلس موریسن) ان دنوں سعودی عرب میں اپنی نوعیت کی منفرد مہم جوئی میں مصروف ہیں۔ ایلس کہتی ہیں کہ ان کی عمر 11 برس تھی جب ان کے والد نےArabian Sands نامی کتاب انھیں تحفے میں دی۔ کتاب کے مصنف برطانوی سیاح Wilfred Thesiger (ولفریڈ تھیسیگر) ہیں جو "مبارک بن لندن" کی عرفیت سے جانے جاتے ہیں۔ ان کا انتقال 2003 میں 93 برس کی عمر میں ہوا۔

ایلس (61 سالہ) نے اونٹ کی پیٹھ پر سوار ہو کر اپنے خانہ بدوش (بدو) ساتھیوں کے ہمراہ الربع الخالی کا صحرا عبور کرنے کی ٹھانی۔ وہ مملکت سعودی عرب کے شمال سے جنوب تک کا سفر پیدل طے کرنے والی پہلی شخصیت بننے کی خواہش رکھتی ہیں۔

ایلس کا سفر دو مرحلوں پر مشتمل ہے۔ پہلے مرحلے میں 925 کلو میٹر کا سفر ہے جو اردن کی سرحد پر "حالہ عمار" گزر گاہ سے لے کر مدینہ منورہ کے صوبے تک ہے۔ یہ سفر ایلس نے گذشتہ جمعے کو مکمل کر لیا۔ دوسرا مرحلہ 1500 کلو میٹر طویل ہے جو یمن کی سرحد کے ساتھ ہے۔ ایلس اس مرحلے کا آغاز آئندہ اکتوبر میں کریں گی جب موسم ٹھنڈا ہو جائے گا۔ برطانوی اخبار 'سنڈے ٹائمز' نے اتوار کے روز ایلس کی اپنے سفر کے متعلق تحریر کردہ طویل رپورٹ شائع کی۔ ایلس کے مطابق سعودی عرب کی جانب سے سیاحوں کے لیے اپنے دروازے کھول دینے کے بعد ہی اس طرح کا سفر کرنا ممکن ہوا۔

ایلس کے مطابق ماضی کے مقابلے میں اس وقت ان کا سفر نسبتا آسان ہے کہ دوران سفر ان کے ساتھ گاڑی ، موبائل فون ، گوگل میپس اور ایک سعودی کمپنی کی لوجسٹک سپورٹ ٹیم بھی ہے۔ ایلس کے مطابق وہ ولفریڈ تھیسیگر کے سفر کے مقابلے میں 3 گنا زیادہ مسافت طے کریں گی۔
برطانوی خاتون نے ایک پڑاؤ کی جگہ پر سعودی میزبانی اور ضیافت کے پہلے تجربے کو شان دار اور نہایت دل چسپ قرار دیا۔ کھانے کے دسترخوان پر سعودی میزبان نے اپنے ہاتھوں سے گوشت کی گرم بوٹیوں کو توڑ کر ایلس کے سامنے چاولوں پر ڈالا۔

ایلس نے جنوری میں سفر کے دوران میں تبوک کے نزدیک وسیع رقبے پر پھیلے صحرائی علاقے کا ذکر کیا۔ یہاں خشکی کے بہت سے جانور رہتے ہیں۔ ایلس کے مطابق انھوں نے شدید سردی اور ریت کے طوفانوں کے بیچ بھی سفر کیا۔

ایلس کے مطابق انھوں نے "پرنس محمد بن سلمان روئل ریزرو" بھی دیکھا۔ اس کے لیے انھیں خصوصی اجازت دی گئی۔ ایلس نے بتایا کہ دوران سفر انھوں نے مملکت میں جنگلوں کے لیے تعینات پہلی خواتین پہرے داروں کے ساتھ چہل قدمی کی۔ وہ کہتی ہیں کہ 10 روز کے پیدل پر مشقت سفر کے بعد وہ "العلا" کے علاقے میں پہنچی تھیں۔ وہ برطانوی نشریاتی ادارے کے لیے ایک سیریل کی عکس بندی کے سلسلے میں پہلے بھی العلا آ چکی ہیں۔ ایلس کے مطابق یہاں کے سحر انگیز قدرتی مناظر نے انھیں دیوانہ کر دیا۔ ان میں سرخ اور سنہرے پہاڑ اور تاریک وادیاں شامل ہیں۔

ایلس کہتی ہیں کہ العلا سے گزرتے ہوئے انھیں بعض آثار قدیمہ دیکھنے کا بھی موقع مل گیا۔ آثار قدیمہ کے سعودی سائنس دان وسام خلیل نے ایلس کو علاقے کی قدیم تاریخ کے بارے میں آگاہ کیا۔

العلا کا علاقہ مملکت سعودی عرب میں سیاحت کے تاج کا نیا نگینہ ہے۔ یہاں بعض مہنگے اور پر تعیش ہوٹل ہیں اور بعض سستے اپارٹمنٹ بھی ہیں۔ یہاں دیکھنے کے لیے تاریخی مقامات اور وادیوں کے بیچ پیدل چلنے کی مہم جوئی کا موقع بھی ہے۔ یہاں رسائی کے لیے ہوائی اڈا اور کافی پینے کی شان دار جگہ بھی ہے۔

ایلس کا کہنا ہے کہ "سفر کا دوسرا اور آخری مرحلہ یکسر مختلف تجربہ ہو گا۔ ایلس کے مطابق وہ سفر کے دوران میں جن سعودیوں سے ملیں وہ اس سفر کے حوالے سے نہایت پر جوش تھے۔ وہ میرے لیے مہمان نوازی کی بہترین صورت اور ہر ممکن مدد پیش کرنے کے شدید خواہش مند تھے۔ ان سب نے مجھے دعا دی کہ خدا میرے حوصلے بلند رکھے اور اس سفر کے مقاصد کو پورا فرمائے"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں