حسن نصراللہ کے جنازے میں شرکت: یمنی وزیر کا حوثی اہلکاروں کی گرفتاری کا مطالبہ

حزب اللہ کی جانب سے جنازے کے اجتماع کو مثالی بنانے کے لیے وسیع پیمانے پر شرکت کی اپیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

یمن کے وزیرِ اطلاعات معمر الاریانی نے بدھ کے روز یمن کے ایران سے منسلک حوثی رہنماؤں کے ایک گروپ کی گرفتاری کا مطالبہ کیا جن کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وہ بیروت میں لبنانی حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ کے جنازے میں شرکت کریں گے۔

نصراللہ نے 30 سال سے زائد عرصے تک حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل کے طور پر خدمات انجام دیں۔ وہ 27 ستمبر کو اس وقت ہلاک ہو گئے تھے جب گذشتہ سال اسرائیل نے جنوبی لبنان پر اپنے حملوں میں اضافہ کیا۔ ان کی تدفین 23 فروری کو ہو گی۔

الایرانی نے ایکس پر ایک پوسٹ میں لبنانی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ حوثی رہنماؤں کو گرفتار کرے اور انہیں بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حریف یمنی حکومت کے حوالے کرے۔

انہوں نے جنازے میں شرکت کرنے والے حوثی عہدیداروں کا نام نہیں لیا۔

نہ ہی لبنانی حکومت اور نہ ہی حوثی رہنما اس معاملے پر فوری تبصرے کے لیے دستیاب تھے۔

حوثیوں نے سرکاری طور پر اعلان نہیں کیا کہ ایک وفد جنازے میں شرکت کر رہا ہے لیکن ان کے زیرِ انتظام چلنے والے المسیرہ ٹی وی نے اطلاع دی ہے کہ یمن سے ایک وفد شرکت کرے گا۔ الایرانی نے مزید کہا، "ہم اس بات کی توثیق کرتے ہیں کہ ان دہشت گرد رہنماؤں کی نقل و حرکت اس وقت محض جنازے میں شرکت کے مقصد سے نہیں ہے جسے ایک آڑ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس کا اصل مقصد ہے کہ ایرانی محورِ مزاحمت کے تمام قائدین کو مجتمع کیا جائے اور انہیں لگنے والی ضربوں کے بعد کی صورتِ حال کا اندازہ لگایا جائے۔"

یمنی وزیر خطے میں ایران کے حمایت یافتہ گروہوں بشمول حزب اللہ اور حوثیوں کے خلاف اسرائیل کے حالیہ حملوں کا حوالہ دے رہے تھے۔

دونوں گروہوں نے فلسطینیوں کی حمایت میں غزہ جنگ کے دوران اسرائیل کے خلاف متوازی حملے کیے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں