سعودی عرب میں 1.5 کروڑ غیر ملکی بلا امتیاز اپنے حقوق حاصل کر رہے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

سعودی عرب میں انسانی حقوق کمیشن کی سربراہ ڈاکٹر ہلا التویجری کا کہنا ہے کہ مملکت نے اپنا قانون ساز نظام جدید بنایا ہے جس سے انسانی حقوق کے تحفظ اور مضبوطی کو یقینی بنانے والا فرہم ورک قائم کرنے میں مدد ملی۔ سعودی عرب اس وقت تنوع کا حامل معاشرہ ہے جہاں 60 سے زیادہ ملکوں کے 1.5 کروڑ غیر ملکی رہ رہے ہیں۔ یہ مملکت کی مجموعی آبادی کا 44% سے زیادہ ہیں۔ یہ افراد بلا امتیاز اعلی ترین سطح پر اپنے حقوق حاصل کر رہے ہیں۔

ڈاکٹر ہلا نے واضح کیا کہ سعودی عرب نے اپنی راسخ اقدار کے ذریعے بین الاقوامی امن و سلامتی کے فروغ کے سلسلے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ وہ اقوام متحدہ کے منشور پر پوری طرح کاربند ہے۔ مملکت منصفانہ معاملات کی نصرت کر رہی ہے اور یوکرین جیسے بحرانات کا خاتمہ کرانے کے لیے کوشاں ہے۔ یہ سب کچھ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی وساطت سے ہو رہا ہے۔

ڈاکٹر ہلا کے مطابق اگر ہم نے ارادہ کر لیا ہے کہ دنیا میں کسی بھی جگہ انسانی حقوق کا احترام راج کرے، تو پھر مضبوط اور ثابت قدم معاشروں کو برقرار رکھنا نا گزیر ہے۔ اس کے لیے ان افعال کا راستہ روکنا ہو گا جن کا ضرر پورے معاشرے کو لپیٹ میں لے لیتا ہے مثلا مذہب اور مذہبی علامتوں کی توہین، نفرت انگیز تقاریر اور اسی طرح خاندان کی حفاظت کی اہمیت بھی.

ڈاکٹر ہلا التویجری نے یہ باتیں جنیوا میں اقوام متحدہ کے زیر انتظام انسانی حقوق کونسل کے 58 ویں اجلاس سے خطاب میں کہی۔ انہوں نے باور کرایا کہ سعودی عرب نے مختلف سطحوں پر انسانی حقوق میں کئی اصلاحات کیں۔ یہ پیش رفت سعودی وژن 2030 پروگرام کے سلسلے میں سامنے آئیں۔ ان اصلاحات کا مرکز انسانی حقوق کے بنیادی اصول ہیں جن میں ترقی کے بنیادی حق میں مساوات اور عدم امتیاز کے علاوہ خواتین، نوجوانان اور دیگر طبقوں مثلا خصوصی افراد، بوڑھوں اور غیر ملکی کارکنان کو با اختیار بنانا شامل ہے۔

اس موقع پر سعودی وفد کی سربراہ ڈاکٹر ہلا التویجری نے فلسطین اور دیگر مقبوضہ عرب اراضی میں انسانی حقوق کی صورت حال پر توجہ بڑھانے کی اہمیت باور کرائی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں