سعودی وزیر داخلہ شہزادہ عبدالعزيز بن سعود بن نائف نے شام میں انٹیلی جنس ادارے کے سربراہ موفق دوخی کے ساتھ مشترکہ دل چسپی کے متعدد موضوعات پر بات چیت کی۔ ان میں انسداد منشیات اور اس کے اسمگلروں کے تعاقب کے سلسلے میں دونوں ملکوں کے درمیان تعاون پر تبادلہ خیال شامل تھا۔ اس موقع پر انسداد منشیات کی شامی انتظامیہ کے ڈائریکٹر خالد عید بھی موجود تھے۔
ملاقات میں شریک شخصیات نے پبلک سیکورٹی کے جنرل ڈائریکٹوریٹ اور انسداد منشیات کے جنرل ڈائریکٹوریٹ میں کام کے طریقہ کار اور سیکورٹی مشنوں کے حوالے سے بات چیت کی۔
اس کے علاوہ دونوں ڈائریکٹوریٹوں میں استعمال ہونے والی جدید ترین ٹیکنالوجیوں کے بارے میں مختصر بریفنگ بھی سنی۔
سعودی عرب نے رواں ماہ فروری کے اوائل میں 3 جرائم پیشہ نیٹ ورکوں کو پکڑا تھا جو عسیر، جازان اور الشرقیہ صوبوں میں منشیات کی اسمگلنگ اور اس کی تجارت کے علاوہ مملکت میں دیکگر صوبوں کو منتقلی کی رابطہ کاری اور منشیات کی تجارت سے حاصل مالی رقوم کی منی لانڈرنگ میں ملوث تھے۔
وزارت داخلہ کے ایک عہدے دار کے مطابق سیکورٹی فورسز نے مذکورہ سرگرمیوں میں ملوث 19 افراد کو حراست میں لیا۔ ان میں 5 کا تعلق وزارت داخلہ ، 7 کا زکات، ٹیکس اینڈ کسٹمز کمیٹی اور 3 کا وزارت دفاع سے ہے۔
واضح رہے کہ سعودی عرب نے گذشتہ برس کے اواخر میں دو جرائم پیشہ نیٹ ورکوں کو ختم کر کے ان کے عناصر کو گرفتار کر لیا تھا۔ یہ افراد ایمفیٹامین اور نشہ آور حشیش کی اسمگلنگ میں ملوث تھے۔ وزارت داخلہ کے مطابق مذکورہ دونوں نیٹ ورک ریاض اور جازان کے صوبوں میں منشیات کی اسمگلنگ اور اس کی تجارت کے سلسلے میں سرگرم تھے۔