العربیہ ڈاٹ نیٹ کو حاصل ہونے والی خصوصی معلومات کے مطابق لبنان کے وزیر دفاع میشال منسی اور ان کے شامی ہم منصب مرہف ابو قصرہ آج جدہ میں ملاقات کریں گے۔ یہ ملاقات منسی کے دمشق کے دورے کے ملتوی ہونے کے بعد منعقد ہو رہی ہے۔
ایک لبنانی ذمے دار نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ دورے کا التوا دو طرفہ ہم آہنگی سے ہوا اور دونوں شخصیات کے بیچ کوئی اختلاف نہیں ہے۔ میڈیا کے مطابق لبنانی وزیر دفاع کو دمشق کے دورے میں دونوں ملکوں کے بیچ سرحدی سیکورٹی صورت حال پر بات چیت کرنا تھی۔ تاہم اب تمام توجہ جدہ ملاقات پر مرکوز ہے۔ ملاقات میں شام کے ساتھ لبنانی سرحد پر کچھ عرصہ پہلے ہونے والی مسلح جھڑپیں بھی زیر بحث آئیں گی۔ ان جھڑپوں کے نتیجے میں فریقین کے درجنوں عناصر ہلاک اور زخمی ہو گئے تھے۔
لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق لبنان اور شام کے وزرائے دفاع جانبین کے بیچ فائر بندی پر متفق ہو گئے تھے۔
ایجنسی کا کہنا ہے کہ لبنانی وزیر دفاع میشال منسی نے ٹیلی فون پر اپنے شامی ہم منصب مرہف ابو قصرہ سے رابطہ کیا اور سرحد پر تازہ صورت حال کے بارے میں بات چیت کی۔
چند روز فائرنگ کے تبادلے کے بعد دونوں جانب سے سرکاری سطح پر فائر بندی کا اعلان کیا گیا۔ اس طرح علاقے میں سکون ہو گیا۔
لبنان اور شام کے بیچ 330 کلو میٹر تک پھیلی ہوئی سرحد میں غیر قانونی کراسنگ بھی موجود ہیں جو بسا اوقات افراد، سامان اور ہتھیاروں کی اسمگلنگ کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔
شامی حکام نے گذشتہ ماہ سرحدی صوبے حمص میں ایک سیکورٹی مہم شروع کی تھی۔ اس کا مقصد ہتھیار اور سامان کی اسمگلنگ کے لیے استعمال ہونے والے راستوں کو بند کرنا تھا۔
یاد رہے کہ سعودی عرب بار ہا لبنان اور شام کے استحکام اور بین الاقوامی قانون کی رو سے دونوں ملکوں کی خود مختاری برقرار رکھنے کی اہمیت باور کرا چکا ہے۔ ریاض حکومت لبنان اور اس کے عوام کے ساتھ کھڑے رہنے کی تصدیق کر چکی ہے۔ اسی طرح مملکت نے شام کی خود مختاری اور وحدت اراضی کو سپورٹ کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔