امریکہ کے ساتھ براہ راست مذاکرات کرنے سے انکار کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسے بھیجے گئے خط کے جواب میں ایران نے کہا ہے کہ کہ اسے ابھی تک امریکی ردعمل نہیں موصول نہیں ہوا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پیر کو ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ان کے ملک کو امریکہ کی جانب سے بالواسطہ مذاکرات کے حوالے سے کوئی جواب نہیں ملا ہے۔
تاہم انہوں نے اپنے ملک کی طرف سے بالواسطہ مذاکرات کرنے کی تجویز کو ایک فراخدلانہ پیشکش قرار دیا۔ انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ سلطنت عمان امریکی فریق کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات کے نئے دور کی میزبانی کے لیے تجویز کردہ سب سے نمایاں اختیارات میں سے ایک ہے۔
براہ راست مذاکرات نہیں
اتوار کو ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکہ کے ساتھ براہ راست مذاکرات سے انکار کر دیا تھا۔ ساتھ ہی انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ٹرمپ کے پیغام پر ان کے ملک کے ردعمل نے سفارت کاری کے دروازے کھلے رکھے ہیں۔ انہوں نے وزارت کی طرف سے شائع ایک بیان میں یہ بھی کہا کہ ایسی پارٹی کے ساتھ براہ راست مذاکرات جو اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مسلسل طاقت کے استعمال کی دھمکی دے اور جس نے متضاد موقف کا اظہار کیا ہو بے معنی ہے۔ تاہم انہوں نے زور دیا کہ ان کا ملک بالواسطہ مذاکرات کا راستہ آزمانے کے لیے تیار ہے۔ وزیر خارجہ کا یہ ردعمل ایرانی صدر مسعود پیزشکیان کے اس بات پر زور دینے کے ایک دن بعد آیا ہے کہ ان کا ملک امریکہ کے ساتھ برابر بات چیت کے لیے تیار ہے۔
فوجی آپشن
یہ پیش رفت اس وقت ہوئی ہے جب تہران نے گزشتہ چند دنوں میں ایک سے زیادہ مرتبہ کہا ہے کہ اس نے گزشتہ ماہ (مارچ 2025) کے اوائل میں ٹرمپ کے بھیجے گئے خط کا جواب دیا ہے ۔ تہران نے کہا کہ وہ اپنے ایٹمی پروگرام کے بارے میں کسی تیسرے ملک کے ذریعے بالواسطہ مذاکرات کرنے کے لیے تیار ہے۔
واضح رہے ٹرمپ نے گزشتہ جمعرات کو اعلان کیا تھا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ایران اپنے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے براہ راست بات چیت کے لیے تیار ہے لیکن وہ خوفزدہ ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ تہران گھبرائے بلکہ اس کے ساتھ براہ راست بات چیت کو ترجیح دی۔