سعودی عرب میں دو صوبوں الشرقیہ اور الاحساء میں محکمہ تعلیم نے منگل کے روز طلبہ کی حفاظت کے پیش نظر حاضری کی بنیاد پر تعلیمی سرگرمیاں معطل کرنے اور درس و تدریس کو آن لائن نظام پر منتقل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ فیصلہ قومی مرکز برائے موسمیات کی جانب سے جاری کردہ موسمی انتباہات کے تناظر میں کیا گیا ہے، جن میں خطے میں شدید گرد و غبار اور آندھیوں کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
دونوں محکموں نے واضح کیا کہ یہ اقدام طلبہ کی سلامتی کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے، کیوں کہ علاقے میں شدید گرد آلود آندھیاں چل رہی ہیں، جن کے باعث افقی حدِ نگاہ ایک کلو میٹر سے بھی کم رہ گئی ہے۔
اسی حوالے سے، قومی مرکز برائے موسمیات نے الشرقیہ، ریاض، الجوف اور شمالی سرحدی صوبوں کے لیے بھی الرٹ جاری کیا ہے۔ اس میں متنبہ کیا گیا ہے کہ ان علاقوں میں تیز ہوائیں، مٹی کے طوفان اور شدید گرد و غبار کے باعث حدِ نگاہ میں نمایاں کمی واقع ہو سکتی ہے۔ یہ صورت حال منگل 15 اپریل کی شام تک جاری رہنے کا امکان ہے۔
ماہر موسمیات عبدالعزیز الحصینی کے مطابق سعودی عرب اس وقت موسمی تغیرات کے ایک ایسے مرحلے سے گزر رہا ہے جو سردی اور گرمی کے درمیان منتقلی کا دور ہوتا ہے۔ اس دوران ہواؤں کی سمت میں بار بار تبدیلی اور گرد آلود فضائیں عام ہوتی ہیں۔ انہوں نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ موسم کی تازہ صورت حال پر نظر رکھیں، خصوصاً اگر کسی بیرونی تقریب یا سفر کا ارادہ ہو۔
الحصینی نے مزید بتایا کہ یہ عرصہ "انقلابِ بہار" یا مقامی زبان میں "موسم المراویح"، "الروایح" یا "السریات" کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس دوران تشکیل پانے والے بادل اکثر گرج چمک کے ساتھ بارش لاتے ہیں، اور بعض اوقات یہ طوفانی بادلوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں، جو اپنی بلندی، شدید بجلی، موسلا دھار بارش، تیز ہواؤں اور بڑے حجم کے اولوں کے باعث خطرناک تصور کیے جاتے ہیں۔