اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی پوپ فرانسس کے انتقال پر تعزیت
اسرائیل کا خاموش ردِ عمل، فرانسس سے تعلقات کشیدہ تھے
اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو نے پوپ فرانسس کے انتقال پر اسرائیل کی جانب سے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔
نیتن یاہو کے دفتر نے جمعرات کو ایکس پوسٹ کیا، "ریاست اسرائیل پوپ فرانسس کے انتقال پر تمام دنیا کے کیتھولک چرچ اور کیتھولک کمیونٹی سے اپنی گہری تعزیت کا اظہار کرتی ہے۔ دعا ہے کہ وہ سکون سے رہیں۔"
پیر کو پوپ کی موت کے اعلان کے بعد نیتن یاہو کا یہ پہلا بیان تھا۔
بہت حد تک رسمی کردار کے حامل اسرائیلی صدر اسحاق ہرتصوغ پوپ کے انتقال پر ردِ عمل ظاہر کرنے والے اولین عالمی معززین میں شامل تھے۔ انہوں نے پوپ کی تعریف کرتے ہوئے انہیں "گہرے عقیدے اور بے پناہ ہمدردی کا حامل آدمی" قرار دیا۔
اسرائیل کی وزارتِ خارجہ نے بدھ کے روز اے ایف پی کو تصدیق کی کہ پوپ کی آخری رسومات میں ملک کی نمائندگی ویٹیکن میں اسرائیل کے سفیر یارون سائیڈ مین کریں گے۔
فرانسس کی وفات پر اسرائیل کا سرکاری ردِ عمل بہت حد تک خاموش ہے۔
اسرائیل اور فرانسس کے درمیان تعلقات سات اکتوبر 2023 کے حملے اور غزہ میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے کشیدہ ہو گئے تھے۔
پوپ نے اسرائیل پر حماس کے حملے کی مذمت کی لیکن وہ غزہ میں فوجی کارروائیوں کے دوران اسرائیل کے طرزِ عمل پر باقاعدگی سے تنقید کرتے تھے۔ ایک موقع پر انہوں نے اس کارروائی کو "ظالمانہ" قرار دیا۔