ہم نے خرطوم میں چھ ہسپتالوں کی بحالی کا کام شروع کیا ہے:سوڈان میں سعودی سفیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

سوڈان میں متعین سعودی عرب کے سفیر علی جعفر نے کہا ہے کہ مملکت خرطوم میں جنگ سے تباہ شدہ چھ ہسپتالوں کی بحالی پر کام کررہی ہے۔ سعودی سفیر کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دوسری طرف سوڈان کا صحت کا نظام تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے بھی اس حوالے سے خبردارکیا ہے۔ 2023 ء سے جاری خانہ جنگی کے دوران سعودی عرب نے انسانی بحران کے خاتمے کے لیے اضافی انسانی امداد فراہم کی ہے۔

سعودی سفیر جو کچھ عرصے سے خرطوم میں کام کر رہے ہیں نے مزید کہاکہ "کنگ سلمان سینٹر اور سوڈانی وزارت صحت کے درمیان انسانی معاملات کا مطالعہ کرنے اور ضروری مدد فراہم کرنے کے لیے ایک مشترکہ کمیٹی موجود ہے"۔

سوڈانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق خرطوم میں وزارت صحت نے سعودی سفارت خانے کے تعاون سے پورٹ سوڈان کے باوارث ملٹری ہسپتال میں مفت سرجیکل مہم کا آغاز کیا۔ اس مہم میں 5 سے 6 مئی کے درمیان 70 سرجریز کی جائیں گی۔ اس مہم کو کنگ سلمان ہیومینٹیرین ایڈ اینڈ ریلیف سنٹر کی طرف سے مالی اعانت فراہم کی گئی ہے اور رابطہ عالم اسلامی کی ٹیم اس پر عمل درآمد کر رہی ہے۔

30 ہیلتھ کیمپ

اس مہم کا مقصد خصوصی سرجریز کرنا ہے، جس میں پیشاب کی پتھری، پیشاب کی نالی کی رسولیاں، خواتین میں پیشاب کی نالی کی بیماریاں، پیشاب کی نالی کی بحالی، تولیدی نظام اور پروسٹیٹ کی بیماریوں کا علاج شامل ہیں۔ اطلاعات سے پتہ چلتا ہے سوڈانی وزیر صحت ڈاکٹر ہیثم ابراہیم نے کہا ہے کہ وزارت آنے والے عرصے میں 30 سے زائد ہیلتھ کیمپوں فعال کرنے کے لیے شاہ سلمان سینٹر کے ساتھ مل کر کام کررہی ہے۔

متعلقہ سیاق و سباق میں سعودی عرب نے سوڈان میں جنگ کے واقعات پر اپنے انسانی اور سیاسی ردعمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے 3 ارب ڈالر سے زیادہ کی امداد فراہم کی، جس میں جغرافیائی خطوں اور انسانی ہمدردی کے شعبوں میں 132 ملین ڈالر کی انسانی امداد بھی شامل ہے۔

70 سے زائد منصوبے

اسی تناظر میں کنگ سلمان ہیومینٹیرین ایڈ اینڈ ریلیف سنٹر کے سپروائزر جنرل، ڈاکٹر عبداللہ الربیعہ نے کہا کہ مرکز نے سوڈان میں ضرورت مند علاقوں میں اپنی کوششیں دوگنی کر دی ہیں۔ اپریل 2023 ءسے اب تک 73 ملین ڈالر سے زائد کی لاگت سے اقوام متحدہ اور دیگر انسانی تنظیموں کے تعاون سے 70 سے زائد انسانی ہمدردی کے منصوبے نافذ کیے ہیں۔

الربیعہ نے مزید کہاکہ "اپریل 2023ء میں بحران شروع ہونے سے پہلے’کے ایs ریلیف‘ کی کوششیں مزید پائیدار مرحلے تک پہنچ گئی ہیں۔تاہم اس تنازعے کی وجہ سے بگڑتے ہوئے انسانی حالات نے ان فوائد کو ختم کر دیا ہے اور ہمیں فوری امداد فراہم کرنے پر واپس آنے پر مجبور کیا ہے"۔

سوڈانی فوج اور ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان دو سال کی جنگ کے بعد سوڈان میں اقوام متحدہ کے انسانی ہمدردی کے کوآرڈینیٹر، کلیمینٹائن نکویتا سلامی نے خبردار کیا کہ ملک میں انسانی صورتحال "تباہ کن" ہو چکی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں