امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غیر ملکی فلموں پر 100 فی صد درآمدی محصولات عائد کرنے کی تجویز نے عالمی سینیما کی دنیا میں ہلچل مچا دی ہے۔ اس پیش رفت سے بین الاقوامی فلمی صنعت کے مستقبل پر گہرے سوالات کھڑے ہو گئے ہیں، جو اب حد درجہ عالمی شکل اختیار کر چکی ہے۔
ٹرمپ نے اتوار کو اعلان کیا کہ انہوں نے اپنی انتظامیہ کو ہدایت دی ہے کہ وہ ان تمام فلموں پر فوری طور پر 100 فی صد محصولات نافذ کرے جو بیرونِ ملک تیار ہو کر امریکہ میں داخل ہوتی ہیں۔ اگرچہ فیصلے کی تفصیلات صیغہ راز میں رکھی گئی ہیں، تاہم فلمی دنیا کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یا تو فلم ساز بڑھتی ہوئی لاگت کے باعث اپنی فلمیں امریکی سینماؤں میں نہیں دکھا سکیں گے، یا پھر انھیں مکمل طور پر امریکہ ہی میں تیار کرنا پڑے گا۔
برطانوی ایجنٹ نے اسے عالمی فلم انڈسٹری کے لیے تباہ کن قرار دیا، جبکہ آسٹریلوی فلم سازوں کے نمائندے میتھیو ڈینر نے کہا کہ جب تک مزید تفصیلات سامنے نہیں آتیں، یہ فیصلہ دنیا بھر میں غیر یقینی اور انتشار پیدا کرے گا۔
ٹرمپ نے یہ موقف اپنایا ہے کہ امریکی فلم انڈسٹری تیزی سے زوال کا شکار ہے، جب کہ دیگر ممالک فلم سازوں کو ٹیکس چھوٹ اور مالی مراعات دے کر امریکہ سے باہر کھینچ رہے ہیں۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق، اس رجحان نے لاس اینجلس میں درمیانے طبقے کی ملازمتوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
کینیڈین فلم ورکرز یونین کی ترجمان ایولین سنو کا کہنا ہے کہ امریکہ میں مکمل طور پر تیار کردہ فلمیں اب بہت نایاب ہو گئی ہیں، اور اگر امریکی پروڈکشنز کی بیرون ملک شوٹنگ بند ہوئی تو ہزاروں مقامی ملازمتیں خطرے میں پڑ جائیں گی، جیسا کہ کینیڈا کے شہر مونٹریال میں ہوتا ہے جہاں ایک فلم میں 2000 افراد کام کرتے ہیں۔
فرانسیسی سینما کے سرکاری ادارے کے سربراہ نے خبردار کیا کہ یورپ کو ایسے کسی بھی ممکنہ امریکی جارحانہ اقدام کے لیے تیار رہنا چاہیے، جو ان کے ریاستی اعانت والے ثقافتی ماڈل کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق، ٹرمپ کا یہ مجوزہ قدم عالمی سینمائی معیشت کو خطرے میں ڈال سکتا ہے، کیونکہ اگر فلم کو مکمل طور پر امریکہ میں تیار نہ کیا جائے تو اسے امریکی سینماؤں میں دکھانے سے روک دیا جائے گا ... اور یہ شرط بہت سی فلموں کو شروع ہونے سے پہلے ہی ختم کر سکتی ہے۔
امریکی جریدے "ورائٹی" نے سوال اٹھایا ہے کہ "یہ کون چاہتا ہے؟" اور خود ہی جواب دیا: "نہ ہالی وُڈ اور نہ سینما ہال، جو اب بھی وبا سے پہلے کی سطح پر واپس آنے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔ آخری چیز جس کی انھہیں ضرورت ہے، وہ ایک اور ٹیکس ہے"۔
-
ٹرمپ غزہ میں حماس کی حکمرانی ختم کرنے کے لیے پرعزم ہیں: امریکہ
امریکی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان برائن ہیوز نے پیر کے روز کہا ہے کہ صدر ٹرمپ غزہ ...
بين الاقوامى -
ٹرمپ کا درآمدی دوا ساز مصنوعات پر نئے کسٹم ٹیکس عائد کرنے کا ارادہ !
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آئندہ دو ہفتوں کے اندر امریکہ میں درآمد ہونے والی دوا سازی ...
بين الاقوامى -
مطالبات تسلیم کرنے تک ہارورڈ یونیورسٹی کی گرانٹس منجمد رہیں گی: ٹرمپ انتظامیہ
امید ہے ٹرمپ کے خطے کے دورے سے پہلے یا اس کے دوران کسی معاہدے میں پیش رفت ہوگی: ...
بين الاقوامى