اسرائیلی فضائیہ نے منگل کے روز یمن میں صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حملہ بھرپور حملہ کیا۔ اسرائیلی فوج نے یمن کے مختلف علاقوں پر 20 سے زیادہ فضائی حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔ فوج کے مطابق ان حملوں میں صنعاء ہوائی اڈے کے مسافر ٹرمینل کی عمارت اور وہاں موجود تمام مسافر طیاروں کو نشانہ بنایا گیا۔ اس کے نتیجے میں ہوائی اڈے کی سرگرمیاں مکمل طور پر مفلوج ہو گئیں۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ صنعاء کا ہوائی اڈا ... الحدیدہ بندرگاہ کی طرح حوثیوں کی جانب سے اسلحہ منتقل کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، اور یہ ہوائی اڈا "دہشت گرد مقاصد" کے لیے حوثیوں کے زیر انتظام ہے۔
حوثیوں کے زیر انتظام میڈیا نے بھی ہوائی اڈے پر اسرائیلی حملے کی تصدیق کی ہے۔ اسرائیلی فوج نے مزید بتایا کہ عمران صوبے میں ایک سیمنٹ فیکٹری کو بھی نشانہ بنایا گیا، جسے حوثی میزائلوں کے سروں کی تیاری کے لیے استعمال کر رہے تھے۔ علاوہ ازیں یمن میں 10 دیگر اہداف پر بھی حملے کیے گئے۔ العربیہ اور الحدث کے نمائندے نے شمالی صنعاء کے علاقے ذهبان میں بجلی گھر پر حملے کی بھی اطلاع دی ہے۔
اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق، ان حملوں میں صنعاء کا ہوائی اڈا، الدیلمی فضائی اڈا، مسافر طیارے، مسافر ہال، رن وے اور کنٹرول ٹاور کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ بات اسرائیلی ٹی وی چینل 14 نے بتائی۔
حملے سے قبل اسرائیلی فوج نے صنعاء ہوائی اڈے کے گرد موجود تمام افراد کو فوری انخلا کا انتباہ جاری کیا تھا۔ اسی دوران، اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے وزارت دفاع کے آپریشن روم کا دورہ کیا۔ العربیہ اور الحدث کے ذرائع نے بتایا کہ حملہ ایک گھنٹے کے اندر متوقع تھا۔
اسرائیلی فوج کے ترجمان افیخای ادرعی نے "ایکس" پر کہا کہ ہوائی اڈے کی حدود کو فوری طور پر خالی کر دیا جائے، اور ہر شخص اپنے آس پاس موجود لوگوں کو خبردار کرے کہ وہ علاقہ فوراً چھوڑ دیں۔ ان کے انتباہ کے ساتھ ایک سیٹلائٹ تصویر بھی جاری کی گئی جس میں ہوائی اڈے کی نشان دہی کی گئی تھی۔
حوثیوں نے آج منگل کے روز بتایا کہ اسرائیلی حملوں میں چار افراد ہلاک اور 39 زخمی ہوئے۔ سوموار کی شب کے حملوں میں باجل (الحدیدہ) کی سیمنٹ فیکٹری پر حملے میں تین شہری ہلاک اور 35 زخمی ہوئے۔ الحدیدہ کی بندرگاہ پر ایک اور حملے میں ایک شخص ہلاک اور چار زخمی ہوئے۔
ان حملوں سے ایک روز قبل اسرائیلی فوج نے الحدیدہ بندرگاہ اور اس کے اردگرد کے علاقوں میں حوثیوں کے اہداف کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا تھا، جو حوثیوں کے اسرائیلی بن گوریون ایئرپورٹ پر داغے گئے میزائل کے جواب میں کیا گیا۔
واضح رہے کہ حوثی ملیشیا نے حالیہ دنوں میں اسرائیل اور بحری تجارتی راستوں پر دوبارہ حملے شروع کر دیے ہیں، جو کہ غزہ میں حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے ختم ہونے کے بعد دوبارہ فعال ہو چکی ہے۔ یمن میں ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا، غزہ کی جنگ کے آغاز سے اسرائیل اور بحیرہ احمر میں نقل و حمل کو نشانہ بنا رہی ہے۔
دوسری جانب، امریکا 15 مارچ سے حوثیوں کے ٹھکانوں پر تقریباً روزانہ کی بنیاد پر فضائی حملے کر رہا ہے، جن کے جواب میں حوثیوں نے متعدد بار بحیرہ احمر میں امریکی طیارہ بردار جہاز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ 29 اپریل کو پینٹاگان نے اعلان کیا کہ امریکی افواج 15 مارچ سے اب تک یمن میں ایک ہزار سے زائد حوثی اہداف کو نشانہ بنا چکی ہیں۔
-
یمن : ایک رات میں حوثیوں کے ٹھکانوں پر 29 امریکی فضائی حملے
امریکہ نے یمن میں حوثیوں کے خلاف اپنے فضائی حملوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ العربیہ کے ...
بين الاقوامى -
یمن میں حوثیوں کے ٹھکانوں پر امریکی اسرائیلی فضائی حملے
امریکہ اور اسرائیل نے یمن میں حوثی گروپ کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے ہیں۔ ...
بين الاقوامى -
سعودی وزیر دفاع اور یمنی وزیر اعظم کے درمیان یمن کی صورت حال پر بات چیت
سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے یمن کے نئے مقرر وزیر اعظم سالم بن صالح بن ...
بين الاقوامى