اسرائیلی وزیر خارجہ جدعون ساعر کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت اسرائیل کو غیر مشروط سیاسی حمایت فراہم کر رہی ہے۔ انھوں نے واضح کیا کہ اسرائیل کو امریکا کی جانب سے حوثیوں پر بم باری روکنے سے متعلق کوئی پیشگی اطلاع نہیں ملی۔
دوسری جانب، اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ اسرائیل اپنی حفاظت کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکی صدر ٹرمپ نے اچانک یمن میں حوثیوں پر حملے بند کرنے کا اعلان کیا، اور کہا کہ حوثیوں نے بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملے بند کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے اور وہ "ہتھیار ڈال چکے" ہیں۔ تاہم حوثی رہنما عبدالمالک العجری نے کہا کہ اسرائیل اس معاہدے کا حصہ نہیں ہے۔
واضح رہے کہ سات اکتوبر 2023 کو غزہ سے حماس کے حملوں کے بعد شروع ہونے والی 'اسرائیل - حماس' جنگ کے دوران حوثیوں نے اسرائیل اور اسرائیل جانے والے بحری جہازوں پر درجنوں میزائل حملے کیے۔
واضح رہے کہ امریکا نے گذشتہ ماہ مارچ سے حوثی اہداف کے خلاف وسیع فضائی حملے شروع کیے۔ اسرائیل نے بھی چند روز قبل صنعاء، بالخصوص اس کے ہوائی اڈے اور الحدیدہ شہر پر درجنوں فضائی حملے کیے۔ اس سے پہلے، امریکی صدر نے گذشتہ منگل کو حملے روکنے کا اعلان کیا، یہ معاہدہ سلطنت عمان کی ثالثی سے طے پایا۔