بیروت ایئرپورٹ سے حزب اللہ کے حامیوں کی برطرفی ، لبنانی سکیورٹی حکام کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

لبنان میں حزب اللہ کی عسکری قوت کو اسرائیل کے ساتھ گذشتہ برس کی جھڑپوں میں ہونے والے بھاری جانی و مالی نقصان کے بعد شدید دھچکا پہنچا ہے۔ اس کے بعد سے لبنانی حکام نے بیروت کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر اپنی گرفت مضبوط کرنا شروع کر دی ہے۔

لبنانی سکیورٹی اور عسکری ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ بیروت ایئرپورٹ پر کام کرنے والے درجنوں ایسے ملازمین کو برطرف کر دیا گیا ہے جن کے حزب اللہ سے وابستہ ہونے کا شبہ تھا۔

جدید نگرانی کا نظام

امریکی جریدے "وال اسٹریٹ جرنل" کی رپورٹ کے مطابق ایک اعلیٰ سکیورٹی اہلکار کے مطابق لبنانی ریاست بیروت ایئرپورٹ پر جدید نگرانی کے آلات نصب کر رہی ہے، جن میں مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی بھی شامل ہے۔

Untitled 1
Untitled 1

میدانی عملے کا کہنا ہے کہ اب انہیں اپنے افسران کی جانب سے مخصوص طیاروں یا مسافروں کو سکیورٹی چیک سے استثنا دینے کی ہدایت نہیں دی جاتی، جبکہ ایران سے پروازوں کی آمد و رفت رواں سال فروری سے معطل ہے۔

لبنانی وزیر اعظم نواف سلام نے اس حوالے سے کہا ہے کہ اسمگلنگ میں ملوث عناصر کو گرفتار کر کے ملکی قوانین کے مطابق عدالتوں میں پیش کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ "لوگ خود محسوس کر سکتے ہیں کہ واقعی فرق آیا ہے۔ لبنان کی حالیہ تاریخ میں پہلی بار ہم اسمگلنگ کے خلاف پیش رفت کر رہے ہیں".

امریکہ اور اسرائیل کا محتاط اطمینان

لبنانی اقدامات پر امریکی اور اسرائیلی عسکری حکام نے محتاط اطمینان کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ حزب اللہ کی ہوائی اڈے اور دیگر گذرگاہوں پر گرفت کم کرنے کی کوششیں قابل قدر ہیں، تاہم مزید اقدامات کی ضرورت باقی ہے۔

لبنان کے جنوبی علاقے میں فوج کی تعیناتی اور سرحدی گزرگاہوں پر سرکاری کنٹرول بڑھنے پر امریکی حکام نے بھی محتاط امید کا اظہار کیا ہے۔

ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار، جو جنوبی لبنان میں جنگ بندی پر نگاہ رکھنے والی بین الاقوامی کمیٹی کے رکن ہیں، نے کہا: "اب تک چھ یا سات ماہ ہوئے ہیں اور ہم اس سطح پر آ چکے ہیں جس کا پہلے تصور بھی ممکن نہ تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں