غزہ میں کام کرنے والے شہری دفاع کے ادارے کے مطابق اسرائیلی فوج نے منگل کے روز بمباری کرتے ہوئے 28 فلسطینیوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ بمباری کے لیے اسرائیلی فوج نے خان یونس کے علاقے میں یورپیئن ہسپتال سے متصل علاقے کو نشانہ بنایا۔
اسرائیلی فوج نے شدید بمباری کے بڑے واقعے کی وجہ اپنے معمول کے طور پر یہی بتائی ہے کہ فوج نے فلسطینی مزاحمتی گروپ حماس کے کمانڈ سنٹر کو ہدف بنانے کے لیے کی ہے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق اس نے خان یونس کے علاقے میں ناصر ہسپتال کے اردگرد کو نشانہ بنایا تھا۔
غزہ شہری دفاع کے ترجمان محمود باسک نے بین الاقوامی خبر رساں ادارے ' اے ایف پی ' کو بتایا ' ہمارے عملے کے مطابق بمباری کا نشانہ بنائے گئے علاقے سے 28 فلسطینیوں کی لاشیں مل چکی ہیں۔ بمباری سے متاثرہ علاقہ غزہ کا جنوبی ٹاؤن خان ہونس بتایا گیا ہے۔
شہری دفاع کے میڈیا آفیسر احمد رضوان کے مطابق غزہ کے جنوبی حصے میں کی گئی اس بمباری کے نتیجے میں تیس افراد کے لگ بھگ ہلاک یا زخمی ہوئے تھے۔
مقامی فوٹو گرافر نے اس بمباری کے بعد بات کرتے ہوئے کہا ' بمباری سے ہر طرف تباہی کا ایک منظر بن گیا تھا ۔ ہسپتال میں لایا جانے والا ہر زخمی اور جاں بحق واقعے کی خوفزدہ کر دینے والی تصویر پیش کرتا تھا۔ ان میں بچوں کی بھی ایک تعداد موجود تھی۔
اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے اب تک 52 ہزار سے زائد فلسطینی قتل ہو چکے ہیں۔ جبکہ ایک لاکھ اٹھارہ ہزار سے زائد فلسطینی زخمی ہو چکے ہیں۔ غزہ میں اسرائیلی جنگ 19 ماہ سے جاری ہے اور اسرائیل کی یہ اب تک کی سب سے طویل جنگ ہے۔