نیتن یاہو سے متعلق ٹرمپ کا رویہ ہمارے غیر ملکی تعلقات کو نقصان پہنچا رہا: اسرائیلی اپوزیشن
اسرائیلی حکومت فلسطینی بچوں کی موت پر دکھ کا اظہار کرے، جنگ بندی معاہدے تک پہنچا جا سکتا ہے: یائر لاپڈ
اسرائیلی اپوزیشن کے رہنما یائر لاپڈ نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو سے "صبر ختم" ہوجانا اسرائیل کے غیر ملکی تعلقات کو "بڑا نقصان" پہنچا رہا ہے۔
لاپڈ نے اخبار "یدیعوت آحرونوت" سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ کا نیتن یاہو سے صبر ختم ہونا ہمارے تمام غیر ملکی تعلقات کو بڑا نقصان پہنچا رہا ہے۔ برطانیہ، فرانس اور دیگر ممالک کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے وہ "اسی نقصان کا نتیجہ" ہے۔
پیر کو برطانیہ، فرانس اور کینیڈا نے اسرائیل پر اس صورت میں پابندیاں عائد کرنے کی دھمکی دی تھی اگر وہ غزہ کی پٹی پر اپنی جنگ جاری رکھتا ہے۔ منگل کو برطانیہ نے اسرائیل کے ساتھ مستقبل کے آزاد تجارتی معاہدے کی بات چیت منسوخ کرنے کا اعلان کیا۔
لاپڈ نے یورپی رہنماؤں سے مطالبہ کیا کہ وہ نیتن یاہو کی پالیسیوں سے اپنی ناراضی کو "اسرائیل پر حملے" میں تبدیل نہ کریں۔ انہوں نے کہا زیادہ پیچیدہ معاملات ہیں، پوری دنیا کو معلوم ہے کہ ہم نے امریکی چھتری کھو دی ہے اور ٹرمپ نیتن یاہو سے تنگ آ چکے ہیں۔ اسرائیلی اپوزیشن رہنما نے تل ابیب اور واشنگٹن کے درمیان تعلقات کو پہنچنے والے نقصان کو "برفانی تودے" سے تعبیر کیا۔
غزہ میں شہریوں، خاص طور پر بچوں کی ہلاکت کے بارے میں اپنے موقف کے بارے میں، لاپڈ نے نیتن یاہو حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ فلسطینی بچوں کی موت پر دکھ کا اظہار کرے۔ اسرائیلی حکومت کو کوئی نقصان نہیں ہوتا اگر وہ بلند آواز میں کہتی ہے کہ ہمیں غزہ میں ہر بچے کی موت پر افسوس ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ غزہ میں بچوں کی موت پر نیتن یاہو حکومت کا افسوس نہ کرنا صرف بین الاقوامی تعلقات میں ایک غلطی نہیں بلکہ ہماری اقدار اور جس قسم کی ریاست ہم بننا چاہتے ہیں اس سے متعلق بھی ایک اخلاقی غلطی ہے۔
یائر لاپڈ نے اپوزیشن "ڈیموکریٹس پارٹی" کے رہنما یائر گولان سے اختلاف کیا جنہوں نے منگل کو اسرائیلی نشریاتی ادارے کو بتایا کہ اسرائیل غزہ میں بچوں کو ایک شوق کے طور پر مار رہا ہے۔ انہوں نے یائر گولان کے بیان کو "نامناسب" قرار دیا اور اس کی مذمت کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم سب کو سوچنا چاہیے کہ ہم کیا کہتے ہیں۔ حکومت کو یہ کہنا چاہیے کہ وہ بچوں کی موت پر دکھ کا اظہار کرتی ہے۔
ایک اور معاملے پر یائر لاپڈ نے اپنے اس یقین کا انکشاف کیا کہ حماس کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ اور غزہ میں جنگ بندی کابینہ کے ایک فیصلے یعنی سیاسی اور سلامتی امور کے لیے چھوٹی وزارتی کونسل کے ذریعے ممکن ہے۔ انہوں نے غزہ کی پٹی پر قبضہ کرنے اور وہاں رہنے کی مخالفت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس بہانے سے ملک میں تباہ حال درمیانے طبقے کی ٹیکس کی رقم غزہ کے بچوں، سکولوں، صحت کے نظام اور کچرا صاف کرنے کے لیے استعمال کی جائے گی۔
اسرائیلی اپوزیشن کے رہنما نے مزید کہا کہ ہم حماس کو تباہ کر دیں گے۔ یہ ایک طویل مشن ہے جس میں سالوں لگیں گے۔ لیکن سب سے پہلے ہمیں قیدیوں کے بارے میں معاہدہ کرنا اور انہیں گھر واپس لانا ہے۔
-
سفارت کاروں پر حملہ، اٹلی اور فرانس کے بعد سپین نے بھی اسرائیلی سفیر کو طلب کر لیا
مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر جنین میں سفارت کاروں کے ایک گروہ پر اسرائیلی فوجیوں نے ...
مشرق وسطی -
یورپ نے اسرائیل سے معاہدات پر نظر ثانی کرنے میں 'تباہ کن تاخیر' کی: ایمنسٹی انٹرنیشنل
انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنطیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ یورپی یونین کا ...
مشرق وسطی -
مغربی کنارا : سفارت کاروں کے دورے کے دوران اسرائیلی فوج کی فائرنگ
مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج نے اس وقت فائرنگ شروع کر دی جب مغربی ممالک کے ...
مشرق وسطی