یورپ نے اسرائیل سے معاہدات پر نظر ثانی کرنے میں 'تباہ کن تاخیر' کی: ایمنسٹی انٹرنیشنل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنطیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ یورپی یونین کا اسرائیل کے ساتھ تجارت و تعاون کے لیے کیے گئے معاہدوں کا غزہ میں جارحیت کی وجہ سے نظر ثانی کرنے کا سوچنا بہت زیادہ تاخیر بلکہ 'تباہ کن تاخیر' کے بعد کیا گیا فیصلہ ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کا یہ بیان یورپی یونین کی اسرائیل کے بارے میں نرمی پر مبنی سوچ کے حوالے سے بدھ کے روز سامنے آیا ہے۔

منگل کے روز یورپی یونین کمیشن نے اتفاق کیا تھا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ اپنے معاہدات پر از سر نو غور کرے گا۔ کیونکہ امکانی طور پر اسرائیل نے یورپی یونین اور اسرائیل کی مشترکہ 'ایسوسی ایشن ایگریمنٹ' کے آئین کے آرٹیکل 2 کی خلاف ورزی کی ہے۔

یہ آرٹیکل انسانی حقوق کے احترام کا تقاضا کرتا ہے اور جمہوری اصولوں کی پاسداری کی فریقین سے توقع کرتا ہے۔

خیال رہے یورپی یونین کے 17 ممبر ملکوں نے اس سلسلے میں اسرائیل کے کردار کو قابل اعتراض قرار دیا اور مطالبہ کیا کہ اسرائیل کے ساتھ معاہدات کو از سر نو دیکھا جائے۔

یاد رہے یورپی یونین نے غزہ میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں انسانی حقوق کی پامالیوں کا یہ احساس غزہ میں اسرائیلی جنگ کے 20 ماہ بعد کیا ہے۔ جبکہ اس دوران 23 لاکھ کے قریب غزہ کے فلسطینی شہری بے گھر ہو چکے ہیں اور 53 ہزار سے زائد اسرائیلی فوج کی بمباری سے جاں بحق ہو چکے ہیں۔ جن میں دو تہائی تعداد فلسطینی عورتوں اور بچوں کی ہے۔

اسی وجہ سے ایمنیسٹی انٹرنیشنل ک ڈائریکٹر برائے یورپین انسٹیٹیوشن آفس ایو گیڈی کا کہنا ہے کہ ہم یورپی یونین کے اس قدم کا پہلے قدم کے طور پر خیر مقدم کرتے ہیں۔ اگرچہ یہ بہت تباہی کے بعد تاخیر سے اٹھایا گیا قدم ہے۔

یاد رہے بدھ کے روز ہی پاکستان کی نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی نے بھی غزہ میں ہونے والی تباہی پر مذمتی بیان جاری کر دیا ہے۔ وہ کئی برسوں سے برطانیہ میں مقیم ہیں۔

انہوں نے کہا 'اسرائیل غزہ میں نسل کشی کرتا رہا لیکن دنیا نے اس بارے میں مکمل طور پر سرد مہری کا رویہ اختیار کیے رکھا کہ اسے کوئی سزا دے۔ جبکہ ایمنیسٹی انٹرنیشنل ایک طویل عرسے سے یہ مطالبہ کرتی آئی ہے کہ اسرائیل کے ساتھ یورپی یونین اپنے معاہدات کا از سر نو جائزہ لے۔'

تاہم خیال رہے ایمنیسٹی انٹرنیشنل سمیت کسی بھی بین الاقوامی این جی او یا ملک کی طرف سے اسرائیل پر انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں اور بین الاقوامی قانون شکنی پر پابندیاں لگانے کا مطالبہ نہیں کیا گیا ہے نہ ہی کسی ملک یا ادارے نے اسرائیل پر ایسی پابندیاں لگائی ہیں۔

انہوں نے مزید نے کہا ' یورپی یونین کی غیر سرکاری پالیسی کہ اسرائیل کو ہر حال میں خوش رکھا جائے یوری یونین کے رکن ملکوں کی انسانی حقوق کے حوالے سے ذمہ داریوں کے منافی ہے ۔ اسرائیل کو خوش رکھنے کی یورپی یونین کی غیر اعلانیہ مسلسل پالیسی کا تاریخ بہرحال نوٹس لے گی۔'

ڈائریکٹر گیڈی نے انتباہ کیا ہے کہ یورپی یونین نے اگر اسرائیل کے خلاف کوئی بھی کارروائی کرنے میں تاخیر کی تو اس کی غزہ میں انسانی جانوں کے نقصان کے طور پر بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں