غزہ کی پٹی پر اسرائیلی فوج کی بد ترین بمباری کا سلسلہ جاری ہے۔ خان یونس کے علاقے میں اتوار کے روز کی گئی بمباری کا بین الاقوامی ریڈ کراس کے کارکن بنے۔ جس کے نتیجے میں کم از کم دو ریڈ کراس کارکن ہلاک ہو گئے۔ ان دونوں کارکنوں کو ان کے گھروں میں نشانہ بنایا گیا ہے۔
ریڈ کراس کے اس بین الاقوامی ادارے نے ایک بار پھر غزہ میں فوری جنگ بندی کی اپیل کی ہے۔ بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی نے اس سلسلے میں سوشل میڈیا پر جاری کردہ اپنے بیان میں کہا ہے' اپنے دو کارکنوں ابراہیم عید اور احمد ابو ہلال کی ہلاکت سے ہمارے دل ٹوٹے ہوئے ییں۔'
ریڈ کراس کے مطابق یہ بمباری در حقیقت ہفتے کے روز کی گئی تھی۔ تاہم اس بارے میں بیان میں کچھ نہیں کہا کہ یہ بمباری کس نے کی۔ البتہ اسرائیل نے تسلیم کیا ہے کہ اس نے خان یونس کے علاقے میں ہفتے کے روز بمباری کی تھی۔
'آئی سی آر سی' نے کہا کہ ابراہیم عید ہتھیاروں کی آلودگی سے پیدا شدہ اثرات کی تلفی کے شعبے کے افسر کے طور پر کام کرتا تھاجبکہ ابو ہلال ریڈ کراس کے قائم کردہ ہسپتال میں سیکیورٹی گارڈ کے طور پر کام کرتا تھا۔
عالمی ریڈ کراس نے ان کے قتل کے بارے میں اپنے مذمتی بیان میں کہا ہے ان کا قتل غزہ میں ناقابل برداشت شہریوں کی ہلاکت کی طرف ایک اشارہ ہے۔
تاہم ریڈ کراس کے اس ادارے 'آئی سی آر سی' نے غزہ میں جنگ بندی کی اپیل دہرانے کے علاوہ طبی کارکنوں ، انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ریلیف کے کام اور شہری دفاع کے کارکنوں سمیت عام شہریوں کے احترام اور تحفظ کے لیے بھی فوری اقدامات کی اپنی پہلے سے موجود اپیلوں کا اعادہ کیا ہے۔
یاد رہے اس سے پہلے بھی ایک واقعے می ریڈ کراس کے ایک درجن سے زائد کارکن اسرائیلی فوج نے چند ہفتے پہلے قتل کر دیے تھے۔