ایران نے پیر کو کہا ہے کہ وہ جلد ہی امریکہ کے ساتھ جوہری معاہدے کے حوالے سے اپنی تجویز پیش کرے گا۔ اس نے واشنگٹن کی پیشکش کو "مبہم" قرار دینے کے بعد یہ بیان دیا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ہم جلد ہی اپنی تجویز کو حتمی شکل دینے کے بعد سلطنت عمان (ثالث) کے ذریعے دوسری طرف پیش کریں گے۔ یہ ایک معقول، منطقی اور متوازن تجویز ہے اور ہم پرزور مشورہ دیتے ہیں کہ امریکی فریق اس موقع سے فائدہ اٹھائے۔ یہ بیان امریکی تجویز کے جواب میں سامنے آیا ہے جسے تہران نے "ناقابل قبول" قرار دیا ہے۔
رائٹرز نے پہلے اطلاع دی تھی کہ تہران مئی کے اواخر میں امریکہ کی طرف سے پیش کی گئی تجویز کو مسترد کرنے کے جواب کی تیاری پر کام کر رہا ہے۔ ایک ایرانی سفارت کار نے کہا ہے کہ امریکی پیش کش سے ایرانی سرزمین پر یورینیم کی افزودگی، ایران کے انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو بیرون ملک بھیجنے اور امریکی پابندیاں ہٹانے سے متعلق اقدامات کے تنازعات حل نہیں ہوئے۔
اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکی تجویز ہمارے لیے ناقابل قبول ہے۔ یہ مذاکرات کے پچھلے دور کے نتائج کی عکاسی نہیں کرتی۔ ہم اپنی تیاری مکمل کرنے کے بعد عمان کے راستے دوسری طرف سے اپنی تجویز پیش کریں گے۔ یہ ایک معقول، منطقی اور متوازن تجویز ہوگی۔
اسماعیل بقائی نے مزید کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری مذاکرات کے چھٹے دور کے وقت کے بارے میں کوئی تفصیلات موجود نہیں ہیں۔ گزشتہ ہفتے ایرانی رہنما آیت اللہ علی خامنہ ای نے امریکی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ملک کے مفادات کے خلاف ہے اور اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ تہران یورینیم کی افزودگی جاری رکھے گا۔
-
ایران کا اسرائیل کے حساس جوہری پروگرام کا ریکارڈ قبضے میں لینے کا دعویٰ
ہزاروں خفیہ فائلیں، ویڈیوز اور تصاویر تہران منتقل: ایرانی ذرائع کا انکشاف
بين الاقوامى -
یورینیم کی 60 فیصد افزودگی ’جوہری عدم پھیلاؤ" معاہدے کی خلاف ورزی نہیں: ایران کا مؤقف
ایران کی ایٹمی توانائی کی تنظیم نے واضح کیا ہے کہ یورینیم کی 60 فیصد تک افزودگی کا ...
مشرق وسطی -
امریکہ کی ایران پر نئی پابندیاں: 10 افراد اور 27 ادارے بلیک لسٹ
امریکی محکمہ خزانہ نے جمعہ کے روز ایران سے متعلق نئی اقتصادی پابندیاں عائد کرنے ...
بين الاقوامى