ایران نے بدھ کے روز ایک ایسے شخص کو ہھانسی دی ہے جس نے سال 2022 میں سات افراد کو قتل کیا تھا۔ اس کے ہاتھوں قتل ہونے والوں میں 10 سالہ بچہ بھی شامل تھا۔
ان تمام افراد کو اس وقت قتل کیا گیا جب ملک بھر میں مہسا امینی کی دوران حراست ہلاکت کے خلاف احتجاج جاری تھا۔ عدالت سے مجرم قرار پانے والے شخص نے ایزح شہر میں احتجاج کرنے والوں کو فائرنگ کا نشانہ بنایا تھا۔ جس کے نتیجے میں 7 افراد ہلاک ہوئے۔
ایرانی عدالت کی ویب سائٹ کے مطابق اس مجرم کو جنوب مغربی صوبہ خوزستان کے شہر اھواز کی عدالت نے پھانسی کی سزا سنائی تھی۔ سپریم کورٹ نے عدالت کے فیصلے کو برقرار رکھا اور اس شخص کو بدھ کے روز پھانسی دے دی گئی۔
بتایا گیا ہے کہ کرکوری نے لگائے گئے الزامات کا اعتراف کیا اور کہا کہ میں سوشل میڈیا کے زیر اثر تھا۔
عدالتی فیصلے میں کرکوری کو فائرنگ، حملوں، املاک کو تباہ کرنے، سمگلنگ کے ذریعے امن و امان کی صورتحال کو خراب کرنے کا مجرم بھی قرار دیا گیا تھا۔
کرکوری کی پھانسی سے ایک روز قبل 9 افراد کو پھانسی دی گئی تھی۔ جن پر الزام تھا کہ انہوں نے 2018 میں داعش حملوں کی منصوبہ بندی کی تھی۔