متحدہ عرب امات سے تعلق رکھنے والی دنیا کی ایک نمایاں ایئر لائن امارات نے مشرق وسطی میں جاری تصادم کی نئی صورت حال کے باوجود ابھی تک اپنے آپریشنز نہیں روکے ہیں۔ تاہم اب اس امر کا جائزہ ضرور لے رہی ہے کہ ان حالات میں علاقائی سطح پر پروازیں جاری رکھنا کس حد تک خطرناک ہو سکتا ہے۔
یہ بات امارات ایئر لائن کے ترجمان نے جمعرات کو اس وقت بتائی جب امریکہ نے مشرق وسطی میں صورت حال بگڑنے کے اندیشے کی بنیاد پر اپنے اہلکاروں علاقے سے نکالنے کا اعلان کر دیا۔
اس سے قبل بدھ کے روز صدر ٹرمپ نے بھی کہہ دیا تھا کہ امریکی اہلکاروں کو مشرق وسطی سے نکال رہے ہیں کیونکہ یہ علاقہ آنے والے دنوں میں خطرناک ہو سکتا ہے۔ ٹرمپ نے اس موقع پر یہ بھی کہا تھا کہ امریکہ ایران کو جوہری ہتھیاروں کی اجازت نہیں دے سکتا۔