ایران میں نطنز افزودگی مرکز کے زیر زمین حصے کو نقصان پہنچنے کا کوئی اشارہ نہیں ملا : گروسی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی IAEA کے ڈائریکٹر جنرل رافائیل گروسی نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ایران میں نطنز کے یورینیم افزودگی مرکز کے زیر زمین حصے پر "کسی حملے کا کوئی اشارہ نہیں" ملا۔ یہ بات اُن اسرائیلی حملوں کے بعد کہی گئی جنھوں نے زمین پر موجود حصہ تباہ کر دیا تھا۔

گروسی نے آج پیر کے روز ایجنسی کے بورڈ آف گورنرز کے ہنگامی اجلاس کے دوران کہا "زیر زمین موجود (یورینیم افزودگی کے لیے سنٹری فیوجز کی) زنجیروں کے ہال پر کسی بھی واضح حملے کے آثار موجود نہیں، جو تجرباتی افزودگی مرکز اور مرکزی افزودگی مرکز کا حصہ ہے۔" یہ بات فرانسیسی خبر رساں ایجنسی نے بتائی۔

اس کے ساتھ ہی انھوں نے مزید کہا کہ "اس کے باوجود، ممکن ہے کہ زنجیروں کے ہال میں بجلی کی بندش کے باعث سینٹری فیوجز کو نقصان پہنچا ہو۔"

اسرائیلی حملوں کی مذمت کا مطالبہ

اس سے قبل تہران نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ آج کے اپنے غیر معمولی اجلاس کے دوران اسرائیلی حملوں کی مذمت کرے جو ایرانی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا تھا "ایسا ملک جو مسلسل بین الاقوامی ایجنسی کی نگرانی میں ہے، اس کی پُر امن جوہری تنصیبات پر حملہ کیا گیا ہے۔"

بقائی نے مزید کہا "ہم توقع رکھتے ہیں کہ ایجنسی اور اس کے ڈائریکٹر جنرل رافائیل گروسی آج اقوامِ متحدہ سے وابستہ اس ایجنسی کے بورڈ آف گورنرز کے اجلاس میں اس کارروائی کی سخت مذمت کریں۔"

نیتن یاہو : ہم نے نطنز کی مرکزی تنصیب تباہ کر دی

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اتوار کے روز اعلان کیا تھا کہ اسرائیل نے ایران کے وسطی علاقے میں واقع نطنز جوہری مقام کی "مرکزی تنصیب تباہ کر دی ہے"۔

نیتن یاہو نے امریکی ٹی وی چینل "فوکس نیوز" کو دیے گئے انٹرویو میں کہا "ہم نے نطنز کی مرکزی تنصیب کو تباہ کر دیا ہے۔ یہ یورینیم افزودگی کا مرکزی مرکز ہے۔"

آپریشن Rising Lion

یاد رہے کہ 13 جون کو اسرائیل نے ایران کے جوہری پروگرام کے خلاف "Rising Lion" کے نام سے ایک فوجی کارروائی شروع کی، جس میں فوجی مقامات کے علاوہ جوہری تنصیبات، پولیس کی عمارتیں اور تہران میں وزارتِ خارجہ کی عمارتوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
اس دوران درجنوں اعلیٰ فوجی کمانڈروں اور جوہری سائنس دانوں کو قتل کیا گیا۔

ایران نے اس حملے کے بعد چوبیس گھنٹوں کے اندر جوابی کارروائی کرتے ہوئے سیکڑوں میزائل داغے۔

بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی نے 13 جون کو ہی تصدیق کی تھی کہ نطنز یورینیم افزودگی مرکز کا زمینی حصہ اسرائیلی حملوں میں تباہ ہو گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں