تہران کے پاس اب بھی ہزاروں میزائل موجود ہیں: مشیر اسرائیلی قومی سلامتی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری دھمکیوں اور ایک دوسرے پر کئی روز سے جاری حملوں کے دوران اسرائیلی قومی سلامتی کے مشیر زاحی ہنجبی نے کہا ہے کہ تہران کے پاس اب بھی ہزاروں میزائل موجود ہیں۔

اسرائیلی فوجی ریڈیو کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ہنجبی نے کہا کہ "یہ کوئی ایسی جنگ نہیں جس کے ذریعے اس خطرے کو ختم کیا جا سکے، نہ ہی چند دنوں میں اور نہ ہی کسی طویل مدت میں"۔

ان کا یہ بیان خبر رساں ایجنسی ’بلومبرگ‘ نے بھی نقل کیا ہے۔

"جنگ منصوبے کے مطابق چل رہی ہے"

ہنجبی نے مزید کہا کہ جنگ بالکل اُس منصوبے کے مطابق جاری ہے جیسا ہم نے سوچا تھا، اور بہت مؤثر طریقے سے جاری ہے"۔
ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے جنگ کے ابتدائی مراحل میں وہ تمام اہداف حاصل کر لیے ہیں جو طے کیے گئے تھے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ "ایران کی سب سے بڑی یورینیم افزودگی کی تنصیب 'نطنز' پر بہت مؤثر حملہ کیا گیا ہے۔ یہ مرکز زیر زمین اور زمین کے اوپر دونوں حصوں پر مشتمل تھا اور دونوں حصے تباہ کر دیے گئے ہیں"۔

370 ایرانی میزائل داغے گئے

اس دوران اسرائیلی فوجی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ ایران نے جنگ کے آغاز سے اب تک اسرائیل کی جانب 370 میزائل فائر کیے ہیں۔

اسرائیلی انٹیلیجنس کے مطابق ایران پر کیے گئے حالیہ حملوں میں سینکڑوں بیلسٹک میزائلوں اور درجنوں لانچنگ پلیٹ فارمز کو نشانہ بنایا گیا ہے، جس سے تہران کے پاس موجود میزائلوں کی تعداد 3000 سے کم ہو کر تقریباً 2000 رہ گئی ہے۔

آپریشن کی مدت ظاہر نہیں کی گئی

متعدد اسرائیلی حکام پہلے ہی یہ واضح کر چکے ہیں کہ وہ اس فوجی آپریشن کی مدت ظاہر نہیں کریں گے لیکن یہ ضرور تسلیم کیا کہ ابھی بھی کئی اہداف باقی ہیں جنہیں نشانہ بنانا باقی ہے۔

فوجی اور نیوکلیئر اہداف پر شدید حملے

اسرائیل نے پچھلے جمعے سے اب تک ایران کے متعدد فوجی مراکز، نیوکلیئر تنصیبات، اعلیٰ فوجی کمانڈرز اور ایٹمی سائنسدانوں کو نشانہ بناتے ہوئے میزائل حملوں اور دھماکوں کی ایک بڑی لہر چلائی ہے۔

اسرائیل نے اعلان کیا ہے کہ وہ مزید حملے جاری رکھے گا تاکہ ایران کی میزائل اور جوہری صلاحیتوں کو مکمل طور پر کمزور کر دیا جائے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں