عمان کی ٹیکس اتھارٹی نے اتوار کے روز کہا کہ حکومت نے ٹیکس سے متعلق ایک شاہی فرمان جاری کیا جس سے وہ خلیج میں ذاتی آمدن پر ٹیکس عائد کرنے والا پہلا ملک بن گیا۔ تیل پیدا کرنے والا یہ چھوٹا سا ملک اپنے ذرائع آمدن کو متنوع بنانے کے لیے کام کر رہا ہے۔
چھوٹی خلیجی معیشتوں میں سے عمان نے 2020 میں عوامی قرضہ جات کم کرنے، محصول کے ذرائع کو متنوع بنانے اور اقتصادی ترقی تیز کرنے کے لیے ایک وسط مدتی مالیاتی پروگرام شروع کیا جس سے عوامی مالیات میں بہتری آئی ہے۔
زیادہ تر تیل کی آمدنی پر انحصار کرنے والا عمان حکم نامے کے مطابق 2028 سے ہر سال 42,000 عمانی ریال (109,091 ڈالر) سے زیادہ کمانے والے افراد کے لیے قابلِ ٹیکس آمدنی پر پانچ فیصد ٹیکس عائد کرے گا۔
ملک کی ٹیکس اتھارٹی نے ایک بیان میں کہا، "قانون میں وہ کٹوتیاں اور استثنیٰ بھی شامل ہیں مثلاً تعلیم، صحت، وراثت، زکوٰۃ، عطیات، بنیادی رہائش جو سلطنتِ عمان میں سماجی صورتِ حال کو مدِنظر رکھتے ہیں۔"
خلیجی ملک نے مزید کہا کہ یہ ٹیکس تقریباً ایک فیصد آبادی پر عائد ہو گا۔