ایرانی جوہری پروگرام کئی سال کے لیے پیچھے دھکیل دیا ہے : اسرائیلی آرمی چیف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اسرائیلی فوجی سربراہ نے ایران کے ساتھ جنگ بندی کے بعد اپنے عوام کو مطمئن کرنے کے لیے خوشخبری سنائی ہے کہ ہم نے ایک مرحلہ مکمل کر لیا ہے۔

تاہم انہوں نے کہا ابھی ایران کے خلاف ہماری مہم مکمل ختم نہیں کی گئی ہے۔ انہوں نے خوشخبری سنائی کہ ایران کے جوہری پروگرام کو کئی برسوں تک روک دیا ہے۔ منگل کے روز اسرائیلی آرمی چیف نے کہا ہمارے حملوں سے ایران کا جوہری پروگرام پسپا کردیا گیا ہے۔

اس لیے اب ہماری کامیابی کا نیا مرحلہ شروع ہوگا۔ اسرائیلی فوج کے چیف آف اسٹاف ایال ضمیر نے منگل کے روز ایک بیان میں کہا پہلا مرحلہ مکمل کر لیا ہے۔

اور یہی اس کے میزائل پروگرام کے ساتھ بھی ہم نے یہی کیا ہے۔ تاہم ایران میں اہداف کے حوالے سے ابھی اسرائیل اور امریکہ دونوں کی طرف سے الگ الگ اور فرق دعوے سامنے آرہے ہیں۔

منگل ہی کے روز اس سے پہلے اسرائیل کی طرف سے اوائل میں کہا گیا تھا 'ایرانی جوہری پروگرام اور میزائلوں کے خطرے کو ختم کر دیا ہے۔

اس سے پہلے اتوار کے روز امریکی فضائی حملوں کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا امریکی افواج نے ایران کے اہم جوہری مقامات کو مکمل تباہ کر دیا ہے۔

دوسری جانب ایران کا کہنا ہے کہ اس نے اپنی تنصیبات سے حساس مواد کو پہلے ہی محفوظ جگہ پر منتقل کر دیا تھا ۔

اسی طرح فرانس کے صدر میکروں نے منگل کے روز کہا ہے 'اب یہ خطرہ بڑھ گیا ہے کہ ایران خفیہ طور پر یورینیم افزودہ کرنے کی کوشش کرے۔'

یاد رہے اسرائیل اور ایران کے درمیان یہ جنگ 13 جون کو اسرائیلی حملوں سے شروع ہوئی۔ امریکی فوج نے ایرانی تنصیبات پر 21 جون کو براہ راست حملے کیے اور 24 جون کو جنگ بندی کا اعلان سامنے آگیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں