ورثے اور روایات نسل در نسل منتقل ہوتی ہیں، یہاں تک کہ یہ اولاد اور پھر ان کی نسلوں تک پہنچتی ہیں۔ یہی ورثہ معاشرتی تشخص اور قدیم روایات کو زندہ رکھتا ہے، جو نئی نسلوں کے لیے تربیت کا ذریعہ بنتا ہے۔
سعودی عرب کے علاقے القصیم میں عبداللہ الحصین ایسی ہی ایک زندہ روایت کے امین ہیں۔ وہ گذشتہ 90 برس سے اپنے آباؤ اجداد سے ورثے میں ملی کھجور کی کاشت کو نہ صرف زندہ رکھے ہوئے ہیں بلکہ اسے اپنا عشق اور زندگی کا حصہ بنا چکے ہیں۔ "العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اپنی اس وابستگی کی کہانی بیان کی۔
عبداللہ الحصین کا کہنا ہے کہ "میں نے یہ کھجوروں کا باغ 1404 ہجری میں خریدا اور یہاں اپنی اہلیہ کے ساتھ سکونت اختیار کی۔ میرے بچے اسی کھیت میں پلے بڑھے۔ انہوں نے بچپن نخلستانوں کے درمیان گزارا۔ میں نے یہاں سے صبر سمیت کئی اہم سبق سیکھے۔ یہ کھیت میری زندگی کا حصہ بن چکا ہے"۔
شاهد.. قصة عائلة سعودية في #القصيم تتوارث الزراعة منذ 400 عام
— العربية السعودية (@AlArabiya_KSA) June 30, 2025
عبر:@al3mri009 pic.twitter.com/oj37h8GC5N
ان کا زمین اور زراعت سے تعلق محض ایک پیشہ نہیں بلکہ نسلوں سے جڑا ہوا ایک رشتہ ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ ان کا بیٹا عبدالعزیز بھی اسی ماحول میں پیدا ہوا اور بچپن سے ہی کھجور کے درختوں سے مانوس ہو گیا۔ وہ اپنے والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے انہی روایات کو زندہ رکھے ہوئے ہے جو ان کے خاندان میں گزشتہ 400 برس سے چلی آ رہی ہیں۔
عبداللہ الحصین مزید کہتے ہیں کہ "میں نے بچپن سے کھجور کی دیکھ بھال، سبزیاں اگانا اور کھیت کی مرمت سیکھ لی تھی۔ آج میں اسی کھیت میں اپنے بیٹوں کے ساتھ رہتا ہوں۔ ہم سب مل کر کھجوروں کی نگہداشت کرتے ہیں اور ان کا پھل اکٹھا کرتے ہیں۔ کھجور کی دیکھ بھال خاص مہارت مانگتی ہے، اس کی آبپاشی، بیماریوں سے بچاؤ اور کیڑوں کے حملوں سے تحفظ کے لیے الگ طریقہ کار درکار ہوتا ہے"۔
الحصین اور ان کے بیٹوں کی کہانی دراصل سعودی عرب میں زمین، زراعت اور خاندانی ورثے سے جڑے وفاداری کے اس جذبے کی نمائندگی کرتی ہے، جو اس خطے کے باسیوں نے صدیوں سے اپنے سینے سے لگا رکھا ہے۔ یہ لوگ نہ صرف زمین سے رزق لیتے ہیں بلکہ اسے نسل در نسل سنبھال کر رکھتے ہیں، تاکہ یہ روایت آئندہ آنے والوں تک بھی بخیر پہنچتی رہے۔