انڈونیشیا کے صدر ابوو سوبيانتو سعودی عرب کے سرکارے دورے پر ریاض پہنچے ہیں جہاں سعودی ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان نے جدہ کے قصر السلام میں ان کا پرتپاک خیرمقدم کیا اور ان کے اعزاز میں باضابطہ استقبال کی تقریب منعقد کی۔
دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی باضابطہ بات چیت میں دو طرفہ تعلقات، مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ اور عالمی و علاقائی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
سعودی عرب اور انڈونیشیا نے غزہ میں انسانی المیے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسرائیلی جارحیت کے اثرات سے نمٹنے کے لیے فوری انسانی امداد کی فراہمی جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
دونوں ممالک نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل پر بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کے لیے دباؤ ڈالے، اس کی خلاف ورزیوں کی مذمت کرے اور اسے جوابدہ ٹھہرائے۔
#ولي_العهد يستقبل رئيس #إندونيسيا ويقيم مراسم استقبال رسمية له في قصر السلام بـ #جدة
— العربية السعودية (@AlArabiya_KSA) July 2, 2025
#رئيس_اندونيسيا_في_المملكة pic.twitter.com/wyqeitN2TG
سعودی-انڈونیشین اعلیٰ رابطہ کونسل کا پہلا اجلاس
ملاقات کے دوران سعودی ولی عہد اور انڈونیشین صدر نے سعودی-انڈونیشین اعلیٰ رابطہ کونسل کے پہلے اجلاس کی مشترکہ صدارت کی۔ اجلاس میں کونسل کے اراکین کی موجودگی میں اہم موضوعات پر تبادلہ خیال کیا گیا اور اجلاس کے اختتام پر دونوں رہنماؤں نے مشترکہ محضر پر دستخط کیے۔
اس موقع پر دونوں ممالک نے اپنی تاریخی دوستی کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اظہار کیا اور رابطہ کونسل کے کام کو جاری رکھنے، اس کے فریم ورک کو مزید مضبوط بنانے اور مؤثر ادارہ جاتی رابطے کو یقینی بنانے پر اتفاق کیا۔
معاشی، تجارتی اور سرمایہ کاری تعاون
دونوں ملکوں نے باہمی اقتصادی تعلقات کو سراہتے ہوئے سرمایہ کاری اور تجارت میں تعاون بڑھانے پر زور دیا، بالخصوص اُن شعبوں میں جو دونوں کے لیے ترجیحی حیثیت رکھتے ہیں۔
انہوں نے نجی شعبے کے مابین شراکت داری، سعودی ویژن 2030 اور انڈونیشیا کی 2045ء کی ترقیاتی حکمت عملی سے استفادہ، اور دوطرفہ تجارتی مواقع کو ٹھوس شراکت میں بدلنے پر اتفاق کیا۔
یہ بھی بتایا گیا کہ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی حجم تقریباً 31.5 ارب ڈالر تک پہنچا، جس سے سعودی عرب انڈونیشیا کا خطے میں سب سے بڑا تجارتی شراکت دار بن چکا ہے۔ دونوں ممالک نے تجارتی وفود کے تبادلوں اور مشترکہ تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے سعودی-انڈونیشین بزنس کونسل کے فعال کردار پر بھی زور دیا۔
سرمایہ کاری میں شراکت داری اور سازگار ماحول کی تشکیل
دونوں فریقین نے توانائی، مالیاتی خدمات، معدنیات، لوجسٹکس، سیاحت، زراعت، گرین ٹیکنالوجی اور دیگر اہم شعبوں میں اسٹریٹجک سرمایہ کاری کے فروغ پر زور دیا۔
سرمایہ کاروں کے لیے پرکشش ماحول بنانے، ترقیاتی اور سرمایہ کاری پالیسیوں میں ہم آہنگی، اور رکاوٹوں کو کم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات پر بھی اتفاق کیا گیا۔
دونوں ممالک نے تجربات کے تبادلے، سرمایہ کاری کانفرنسز کے انعقاد اور باقاعدہ رابطے کو جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔
توانائی کے شعبے میں شراکت داری
انڈونیشیا نے عالمی توانائی منڈیوں میں سعودی عرب کے مثبت کردار کو سراہتے ہوئے توانائی کے تحفظ اور توازن پر مملکت کی مساعی کو سراہا۔
دونوں ممالک نے خام تیل، پیٹرو کیمیکل، بجلی، قابل تجدید توانائی، توانائی ذخیرہ، اور کاربن سرکلر اکنامی جیسے اہم شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے پر اتفاق کیا۔
مصنوعی ذہانت جیسی جدید ٹیکنالوجیز کے استعمال اور توانائی کے شعبے میں اختراعات کو فروغ دینے پر بھی زور دیا گیا۔
صحت اور دیگر شعبہ جات میں تعاون
دونوں ملکوں نے صحت سمیت متعدد شعبہ جات میں تعاون کو مزید وسعت دینے اور شراکت داری کو مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔
یمن، شام اور سوڈان کے بحران پر مشترکہ مؤقف
یمنی بحران پر دونوں ملکوں نے اقوام متحدہ اور علاقائی کوششوں کی مکمل حمایت کا اعلان کیا تاکہ سیاسی حل ممکن ہو اور یمن کی وحدت و استحکام بحال ہو۔
شام کے حوالے سے، دونوں ممالک نے اس کی خودمختاری، سالمیت اور داخلی امور میں عدم مداخلت کے اصول پر زور دیا۔
سوڈان میں جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے فریقین کے درمیان جدہ پلیٹ فارم پر مذاکرات جاری رکھنے اور فائر بندی کے لیے کوششیں تیز کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا، تاکہ سوڈانی عوام کی مشکلات کم ہوں اور ملک کی وحدت و قومی ادارے محفوظ رہیں۔