غزہ کے الناصر ہسپتال پر اسرائیلی حملہ: صحافیوں سمیت کم از کم 15 افراد جان سے گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

فلسطینی محکمہ صحت کے حکام نے بتایا کہ پیر کے روز غزہ میں ناصر ہسپتال پر اسرائیلی حملوں میں کم از کم 15 افراد بشمول تین صحافی بھی ہلاک ہو گئے جن میں سے ایک رائٹرز کے لیے کام کرتا تھا۔

حکام کے مطابق حملوں میں ہلاک شدہ صحافیوں میں سے ایک کیمرہ مین حسام المصری رائٹرز کے ملازم تھے۔ حکام نے بتایا کہ فوٹوگرافر حاتم خالد زخمی ہو گئے اور وہ بھی رائٹرز کے ملازم ہیں۔

الجزیرہ نے بھی کہا کہ اس کا ایک صحافی اسرائیلی حملے میں ہلاک ہو گیا جبکہ اس سے دو ہفتے قبل ایک حملے میں نشریاتی ادارے کے عملے کے چھے ارکان اور فری لانسرز ہلاک ہو گئے تھے۔

قطر میں قائم نیوز نیٹ ورک نے بتایا کہ ایک فوٹو جرنلسٹ اور کیمرہ مین محمد سلامہ حملے میں ہلاک ہو گئے۔

وزارت نے کہا کہ ناصر ہسپتال کی چوتھی منزل پر متأثرین دوہرے حملے میں ہلاک ہوئے جن میں سے ایک میزائل حملہ پہلے اور پھر دوسرا چند لمحوں بعد ہوا جب ریسکیو عملہ پہنچا۔

اسرائیلی فوج اور وزیرِ اعظم کے دفتر دونوں نے حملوں کے بارے میں کوئی فوری تبصرہ نہیں کیا۔

خان یونس میں واقع جنوبی غزہ کا سب سے بڑے ناصر ہسپتال کو 22 ماہ کی جنگ کے دوران چھاپوں اور بمباری کا سامنا رہا ہے اور حکام نے بتایا کہ وہاں سامان اور عملے کی شدید قلت تھی۔

اسرائیلی فوج نے فوری طور پر حملے سے متعلق سوالات کا جواب نہیں دیا۔

جون میں ناصر ہسپتال پر حملے میں تین افراد ہلاک اور 10 زخمی ہو گئے تھے۔ اس وقت اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے حماس کے مزاحمت کاروں کو درست نشانہ بنایا جو ہسپتال کے اندر قاتم کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر سے کارروائی کر رہے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں