اگر "ٹریگر میکانزم" فعال ہوا تو ایران پر کون سی پابندیاں عائد ہوں گی ؟
یہ پابندیاں 2006 سے 2010 کے درمیان جاری چھ قراردادوں پر مشتمل ہیں
دس سال قبل ایران نے برطانیہ، جرمنی، فرانس، امریکہ، روس اور چین کے ساتھ ایک معاہدہ کیا، جسے "جامع مشترکہ عملی منصوبہ" یا عام طور پر ایٹمی معاہدہ کہا جاتا ہے۔
اس معاہدے کے تحت ایران پر اقوام متحدہ، امریکہ اور یورپ کی طرف سے لگائی گئی پابندیاں ختم کر دی گئی تھیں، جبکہ ایران نے اپنے ایٹمی پروگرام پر کچھ پابندیاں ماننے کا وعدہ کیا تھا۔ اس کے علاوہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے جولائی 2015 میں اس معاہدے کو منظور کیا، اور یہ منظوری 18 اکتوبر 2025 کو ختم ہونے والی ہے۔ اس معاہدے کے تحت کسی بھی فریق کو "پابندیوں کی دوبارہ بحالی" یاSnapback کی کارروائی شروع کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اگر پابندیاں دوبارہ بحال کی گئیں تو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایران پر پہلے سے عائد کی گئی سخت پابندیاں دوبارہ لاگو ہو جائیں گی۔ حال ہی میں یورپی ٹرائیکا یعنی فرانس، جرمنی اور برطانیہ نے جمعرات کو سلامتی کونسل کو اطلاع دی کہ وہ اسنیپ بیک کا عمل فعال کر رہے ہیں۔
یہ پابندیاں کون سی ہیں؟
یہ پابندیاں 2006 سے 2010 کے دوران چھ قراردادوں پر مشتمل ہیں۔
30 دن کی مدت کا مطلب کیا ہے؟
سال2015 کے معاہدے میں "پابندیوں کی دوبارہ بحالی" یا اسنیپ بیک کی شق شامل تھی، جسے اقوام متحدہ ایران کے خلاف استعمال کر سکتی ہے۔ اگر معاہدے کے فریق ایران کی "سنگین غیر تعمیل" کے الزامات حل نہ کر سکیں، تو یہ عمل 15 رکنی سلامتی کونسل میں فعال کیا جا سکتا ہے۔
اب یورپی ٹرائیکا کے بیان کے مطابق، اس عمل کے آغاز کے بعد سلامتی کونسل کو 30 دن کے اندر فیصلہ کرنا ہوگا کہ ایران کے خلاف پابندیاں جاری رہیں یا نہ رہیں۔ اس کے لیے کم از کم 9 ووٹ چاہیے اور کسی بھی مستقل رکن کو ویٹو استعمال نہیں کرنا چاہیے۔
لیکن اگر 9 یا زیادہ اراکین پابندیوں کی توسیع یا نرمی کے حق میں ووٹ دیں، تو برطانیہ اور فرانس ویٹو استعمال کر کے اس فیصلے کو روک سکتے ہیں۔ اگر کوئی فیصلہ منظور نہ ہوا تو تمام اقوام متحدہ کی پابندیاں ایران پر واپس عائد ہو جائیں گی، یعنی اسنیپ بیک شروع ہونے کے 30 دن بعد، جو ستمبر کے آخر میں متوقع ہے، یہاں تک کہ سلامتی کونسل کوئی دوسرا اقدام نہ کرے۔