عرب ملکوں میں متوقع چاند گرہن کے اوقات
فلکیات کے شائقین اتوار کو ہونے والے مکمل چاند گرہن کے دوران "بلڈ مون" کا انتظار کر رہے ہیں
اتوار کی شام کو عرب خطے میں چاند گرہن کا مشاہدہ کیا جائے گا جو فلکیات کے شوقین افراد کے لیے ایک نادر موقع ہوگا۔ وہ اس دوران "بلڈ مون" دیکھ سکیں گے جو ایک مکمل چاند گرہن ہے اور اس کا سب سے واضح مشاہدہ ایشیا میں ہوگا۔ یورپ اور افریقہ میں بھی اسے تھوڑا بہت دیکھا جا سکے گا۔
بین الاقوامی فلکیاتی مرکز جس کا صدر دفتر متحدہ عرب امارات میں ہے نے کہا ہے کہ وہ اس متوقع مکمل چاند گرہن کی براہِ راست نشریات کرے گا۔ یہ گرہن ایشیا اور آسٹریلیا کے بیشتر حصوں سے مکمل طور پر دیکھا جا سکے گا اور افریقہ اور یورپ کے کچھ حصوں سے بھی اس کا جزوی نظارہ ممکن ہوگا۔
مرکز نے اپنے ” ایکس “ اکاؤنٹ پر کہا ہے کہ مشرقی عرب ممالک میں چاند گرہن شروع ہونے سے پہلے طلوع ہوگا جبکہ وسطی عرب ممالک میں یہ گرہن کے ابتدائی مراحل میں طلوع ہوگا۔ مغربی عرب ممالک میں چاند گرہن کے آخری مراحل میں طلوع ہوگا۔ یہ مظہر، جس میں زمین کا چاند سرخ رنگ کا ہو جاتا ہے، اس وقت ہوتا ہے جب سورج، زمین اور چاند بالکل ایک سیدھی لائن میں ہوتے ہیں اور چاند پورا ہوتا ہے۔
گرہن کے اوقات
بین الاقوامی فلکیات کے مرکز کے مطابق چاند متحدہ عرب امارات کے وقت کے مطابق شام 7:28 پر اور سعودی وقت کے مطابق شام 6:28 پر شیڈو ریجن میں داخل ہونا شروع کر دے گا۔ جزوی گرہن امارات کے وقت کے مطابق رات 8:27 پر شروع ہو گا۔ مکمل گرہن رات 9:31 پر شروع ہوگا ۔ چاند گرہن رات 10:12 پر اپنے عروج پر پہنچے گا۔ مکمل گرہن امارات کے وقت کے مطابق رات 10:53 پر ختم ہوجائے گا۔ سعودی وقت کے مطابق یہ اختتام رات 9:53 پر ہوگا۔ جزوی گرہن رات 11:57 پر ختم ہو جائے گا۔ گرہن مجموعی طور پر پیر کو امارات کے وقت کے مطابق 12:55 بجے پر ختم ہوگا۔
مرکز نے کہا ہے کہ چاند عام طور پر مکمل گرہن کے دوران غائب نہیں ہوتا ہے کیونکہ سورج کی روشنی زمین کے ماحول میں داخل ہوتی ہے اور چاند کی طرف مڑ جاتی ہے۔ اس کی وجہ سے چاند روشن رنگوں جیسے پیلے، نارنجی یا سرخ رنگوں کو اختیار کرلیتا ہے۔ مکمل گرہن کے دوران چاند کا رنگ زمین کے ماحول کی پاکیزگی کا اشارہ ہے۔ فضا جتنی زیادہ آلودہ ہوتی ہے سورج کی روشنی اتنی ہی کم ہوتی ہے اور چاند گرہن کے دوران چاند کی روشنی کم ہوتی ہے اور اس کا رنگ گہرا سرخ یا بھورا ہوجاتا ہے۔ شاذ و نادر صورتوں میں چاند مکمل طور پر غائب بھی ہو سکتا ہے جیسا کہ جون 1991 میں فلپائن میں ماؤنٹ پیناٹوبو کے پھٹنے کی وجہ سے 9 دسمبر 1992 کو چاند گرہن کے دوران ایسا ہوا تھا۔
مرکز نے ایک تصویر شائع کی ہے جس میں کچھ عرب شہروں میں چاند گرہن کے اوقات کو دکھایا گیا ہے۔ پیلے رنگ والا حصہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ دکھائے گئے شہر کے لیے اس وقت چاند افق سے نیچے ہوگا۔ ایک اور تصویر میں دنیا کا نقشہ دکھایا گیا ہے جس میں وہ علاقے واضح کیے گئے ہیں جہاں چاند گرہن مکمل یا جزوی طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
سورج گرہن کو دیکھنے کے لیے خاص چشمے کی ضرورت ہوتی ہے لیکن چاند گرہن کے لیے صرف صاف موسم اور صاف آسمان کے ساتھ ایک مناسب جگہ پر موجود ہونا کافی ہے۔ یہ اس سال کا دوسرا مکمل چاند گرہن ہے۔ پہلے چاند گرہن کا مشاہدہ مارچ میں ہوا تھا۔ یہ گرہن اگلے سال 12 اگست 2026 کو ہونے والے بڑے سورج گرہن کی پیش گوئی بھی ہے۔