قطر کے دار الحکومت دوحہ پر منگل کے روز اسرائیلی فضائی حملوں میں حماس کے بعض رہنماؤں کی صورت حال اب تک غیر واضح ہے۔ تاہم تحریک کے ذرائع نے عربی روزنامے "الشرق الاوسط" کو بتایا ہے کہ سیاسی دفتر کے دو رہنما زخمی ہوئے، جن میں سے ایک کی حالت تشویش ناک ہے۔
ذرائع کے مطابق زخمی رہنماؤں کا "ایک نجی اسپتال میں سخت سیکیورٹی حصار کے اندر علاج ہو رہا ہے"، تاہم اس وقت ان کا نام ظاہر کرنے سے گریز کیا جا رہا ہے۔
ہمراہ افراد کے موبائل فون
ذرائع نے بتایا کہ ممکنہ طور پر رہنماؤں کی ہلاکت نہ ہونے کی ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ اسرائیل نے ان کے موبائل فونوں کے محل وقوع پر انحصار کیا ہو۔ ان کے مطابق روایت یہ ہے کہ ہر اجلاس کے دوران سیاسی دفتر کے رہنما اپنے موبائل فون ساتھ نہیں رکھتے بلکہ انھیں گاڑیوں یا سکیورٹی عملے کے پاس چھوڑ دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حملے میں زیادہ تر جانی نقصان محافظوں اور معاونین کو اٹھانا پڑا۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ اجلاس ہمیشہ ایک ہی جگہ پر نہیں ہوتا بلکہ مختلف مقامات پر منتقل کر کے منعقد کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ہدف بنائے گئے کمپاؤنڈ کے قریب بھی ایسے دفاتر موجود ہیں جو سیاسی دفتر اور سیکریٹریٹ کے استعمال میں ہیں۔
معلومات کے مطابق جس کمپاؤنڈ کو نشانہ بنایا گیا، وہاں دفاتر اور مکانات دونوں شامل ہیں جو حماس کے رہنماؤں اور ان کے محافظوں کے زیر استعمال تھے۔ ان میں ایک درمیانے درجے کا بنگلہ بھی شامل ہے جو خلیل الحیہ کی ملکیت ہے اور اسی میں ان کا ذاتی دفتر موجود تھا۔ یہی دفتر حملے میں سب سے زیادہ متاثر ہوا، جبکہ مجموعی طور پر چار فضائی حملے کیے گئے۔
"چھوٹے ہتھیار"
اسرائیل میں بعض سیکیورٹی عہدے داروں کا اندازہ ہے کہ حملے کے وقت حماس کے رہنما بنگلے کے اندر ہی موجود تھے، لیکن یا تو وہ محفوظ رہے یا معمولی زخمی ہوئے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق سیکیورٹی ادارے یہ بھی جائزہ لے رہے ہیں کہ شاید حملے میں استعمال ہونے والے "فضائی ہتھیار بہت چھوٹے تھے"۔ بتایا گیا کہ دس بم گرے جنہوں نے عمارت کے ایک حصے کو شدید نقصان پہنچایا مگر اسے مکمل طور پر تباہ نہیں کیا۔
ذرائع کے مطابق اسرائیل نے نسبتاً چھوٹے ہتھیار اس لیے استعمال کیے تاکہ قریبی علاقے میں موجود ممکنہ قطری شہریوں کو جانی نقصان سے بچایا جا سکے۔
قطری وزیرِ اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے بدھ کی شب مطالبہ کیا کہ اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کو عدالت کے کٹہرے میں لایا جائے، اور کہا کہ ان کی کارروائی نے قیدیوں کے معاملے پر کسی بھی سمجھوتے کے امکانات کو تباہ کر دیا ہے۔
یاد رہے کہ اسرائیل نے منگل کے روز اچانک یہ حملہ اس وقت کیا جب حماس کے سینئر رہنما (جن میں بیرونِ ملک تنظیم کے سرکردہ رہنما اور جنگ بندی مذاکراتی وفد کے سربراہ خلیل الحیہ بھی شامل تھے) دوحہ میں اجلاس کر رہے تھے۔ اس اجلاس کا مقصد ممکنہ سمجھوتے پر بات چیت تھا، جس میں قطر، مصر اور امریکا کی ثالثی کی کوششیں شامل تھیں۔
بعد ازاں حماس نے اعلان کیا کہ "حملہ ناکام رہا اور وفد کا کوئی رکن ہلاک نہیں ہوا"۔ تاہم تنظیم نے تصدیق کی کہ چھ افراد ہلاک ہوئے جن میں خلیل الحیہ کا بیٹا اور ان کے دفتر کا سربراہ شامل ہیں۔