قطر پر اسرائیلی حملے پر ہنگامی اجلاس، دوحہ میں عرب و اسلامی سربراہی اجلاس آج ہوگا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے اعلان کیا ہے کہ منگل کو ایک ہنگامی اجلاس منعقد ہوگا جس میں قطر پر اسرائیلی فضائی حملے پر غور کیا جائے گا۔ یہ اجلاس پاکستان (او آئی سی کی نمائندگی کرتے ہوئے) اور کویت (جی سی سی کی نمائندگی کرتے ہوئے) کی درخواست پر طلب کیا گیا ہے۔

کونسل نے واضح کیا کہ نشست میں نو ستمبر 2025 کو قطر پر ہونے والے اسرائیلی فوجی حملے کا جائزہ لیا جائے گا۔

اسی دوران قطر آج عرب و اسلامی سربراہی اجلاس کی میزبانی کر رہا ہے جس میں متعدد عرب و اسلامی ممالک کے سربراہان شریک ہیں۔ اجلاس میں اسرائیلی جارحیت کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل پر بات ہوگی۔

اتوار کی شب دوحہ میں وزرائے خارجہ اور 57 ممالک کے نمائندوں کا مشاورتی اجلاس ہوا، جس میں مجوزہ اعلامیہ پر غور کیا گیا۔ اعلامیے میں قطر پر اسرائیلی حملے کی مذمت اور اسرائیل کو مستقبل میں کسی بھی عرب یا اسلامی ملک کو نشانہ بنانے کی دھمکیوں سے باز رہنے پر زور دیا گیا۔

قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے اجلاس میں عالمی برادری سے اسرائیل کو اس کے جرائم پر سزا دینے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ قطر مصر اور امریکہ کے ساتھ مل کر غزہ جنگ کے خاتمے کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔

مجوزہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ قطر پر اسرائیلی حملہ نہ صرف براہ راست ملک کو نشانہ بناتا ہے بلکہ امن قائم کرنے اور تعلقات کو معمول پر لانے کی کوششوں کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔

سعودی وزارت خارجہ کے مطابق وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے اجلاس میں شرکت کی اور کہا کہ اسرائیلی جارحیت عالمی قوانین اور اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

ادھر عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل احمد ابو الغیط نے کہا کہ اس سربراہی اجلاس کا انعقاد اس بات کا ثبوت ہے کہ قطر تنہا نہیں، بلکہ تمام عرب و اسلامی ممالک اس کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔

قطر خطے میں سب سے بڑی امریکی فوجی اڈے کی میزبانی کرتا ہے اور اسرائیل و حماس کے درمیان جنگ بندی کے لیے امریکہ اور مصر کے ساتھ مصالحتی کردار ادا کر رہا ہے۔

منگل کو اسرائیل نے دوحہ کی ایک رہائشی عمارت پر بمباری کی جس میں چھ افراد جاں بحق ہوئے، ان میں ایک قطری سکیورٹی افسر بھی شامل تھا۔ ہلاک شدگان میں حماس کے رہنما خلیل الحیہ کا بیٹا اور ان کے دفتر کا سربراہ بھی شامل تھا۔ حماس کے مطابق اعلیٰ قیادت اس حملے میں محفوظ رہی۔

اسرائیلی حملے پر عالمی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی غیر معمولی انداز میں قطر کو "امریکہ کا اہم اتحادی" قرار دیتے ہوئے اس حملے پر نکتہ چینی کی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں