غزہ سرحدی باڑ روندتے ہوئے اسرائیلی ٹینکوں کی پیش قدمی کے مناظر

فوجی آپریشن تیز ہونے سے علاج اور ریلیف کی سہولتیں شدید حد تک متاثر ہو چکی ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کے منگل کے روز غزہ میں فوجی کارروائی کا دائرہ وسیع کرنے کے اعلان کے بعد نئی تصاویر میں شدید اور مسلسل بمباری دکھائی گئی ہے۔

العربیہ ٹی وی نے مناظر نشر کیے ہیں، جن میں دکھایا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج غزہ شہر کی سرحدی باڑ عبور کر رہی ہے، اسی دوران علاقے پر شدید بمباری بھی جاری ہے۔

مناظر میں دکھایا گیا ہے کہ بمباری کے نتیجے میں علاقے سے دھواں اٹھ رہا ہے۔

العربیہ/الحدث کے نمائندے کے مطابق فوجی کارروائیوں میں شدت کے ساتھ ہی طبی اور امدادی سہولتیں نہایت سستی روی کا شکار ہو چکی ہیں۔

اس سے قبل اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو نے واضح کیا تھا کہ ان کی فوج نے غزہ میں فوجی کارروائی کو مزید وسعت دینا شروع کر دی ہے۔

مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق انہوں نے زور دے کر کہا کہ "اسرائیلی فوج غزہ میں فیصلہ کن کارروائی کے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔"

ایک اسرائیلی فوجی اہلکار نے تصدیق کی ہے کہ غزہ شہر میں "زمینی کارروائیوں کا مرکزی مرحلہ" شروع ہو گیا ہے۔ انہوں نے امکان ظاہر کیا کہ "شہر میں حماس کے ہزاروں جنگجو موجود ہیں۔"

انہوں نے توقع ظاہر کی کہ اسرائیلی افواج شہر کے اندر بتدریج پیش قدمی کریں گی۔

عسکری ذرائع کے حوالے سے اسرائیلی نشریاتی ادارے نے بتایا ہے کہ اسرائیلی فوج غزہ شہر کے نواح میں داخل ہو گئی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ فوج کی دو بریگیڈز نے کل سے شہر پر قبضے کی کارروائی شروع کر دی ہے۔

ادھر اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسٹ) کے سپیکر امیر اوحانا نے تصدیق کی ہے کہ "غزہ پر زمینی کارروائی کا آغاز ہو چکا ہے۔"

خطرناک لڑائی کا علاقہ

اسرائیلی فوج نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں رہنا شہریوں کے لیے خطرناک ہے۔ اسرائیلی فوج کے ترجمان افیخائی ادرعی نے منگل کو'' ایکس'' پر بتایا کہ شہر "لڑائی کے لیے خطر ناک علاقہ" تصور کیا جاتا ہے۔

اسرائیلی فوج نے غزہ کے رہائشیوں پر زور دیا ہے کہ وہ "جلد از جلد الرشید شاہراہ کے راستے وادی غزہ کے جنوب کی جانب گاڑیوں پر یا پیدل منتقل ہو جائیں۔" فوجی ترجمان کے مطابق غزہ شہر کے 40 فیصد باشندے منتقل ہو چکے ہیں۔

اس کے جواب میں فلسطینی وزارتِ خارجہ نے اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری سے غزہ میں شہریوں کے تحفظ کے لیے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ بیانات اس وقت سامنے آئے جب العربیہ/الحدث کے نمائندے نے بتایا کہ اس وقت تک اسرائیلی فوجی گاڑیوں کی جانب سے "شہر کے وسط" میں کوئی خاص پیش قدمی نہیں ہوئی، بلکہ کارروائی زیادہ تر مغربی علاقے کے گرد ہی محدود ہے۔

تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیلی فوج شہر کے جنوب مشرق میں ''ضلع الزيتون ''میں موجود ہے، خاص طور پر ''منطقہ البرعصی'' کے قریب فیکٹری ''ستا ''کے پیچھے واقع ہے، اور ساتھ ہی شہر کے شمال میں'' برکہ الشیخ رضوان ''کے ارد گرد بھی فوجی تعینات ہیں۔

تاہم، انہوں نے بتایا کہ "اسرائیلی فوج کی فضائی اور توپ خانے کے ذریعے شہر کے مختلف علاقوں پر شدید گولہ باری جاری ہے، جبکہ فلسطینی خاندان انتہائی المناک اور ہولناک حالات میں نقل مکانی کر رہے ہیں۔"

اسرائیلی حکومت نے گذشتہ ماہ غزہ شہر کو مکمل طور پر قبضے میں لینے کے منصوبے کوحتمی شکل دی تھی، اس کے باوجود کہ فوجی کمانڈروں، اقوامِ متحدہ اور بین الاقوامی برادری نے اس پرسخت تنقید کی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں