اسرائیل کی یورپی یونین کی سربراہ سے غزہ جنگ کے باعث مجوزہ پابندیاں ختم کرنے کی اپیل
پابندیوں کے ذریعے دباؤ سے کام نہیں بنے گا: اسرائیلی وزیرِ خارجہ
اسرائیل نے منگل کے روز یورپی کمیشن کی صدر ارزولا فان ڈئر لاین پر یہ تجویز واپس لینے پر زور دیا ہے کہ وہ غزہ میں جنگ کے خاتمے کی غرض سے اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کے لیے تجارتی تعلقات کو روکیں گی۔
"پابندیوں کے ذریعے دباؤ سے کام نہیں بنے گا،" وزیرِ خارجہ گیڈون سار نے فان ڈئر لاین کو ایک خط میں لکھا۔
مذکورہ اقدام کا اعلان گذشتہ ہفتے فان ڈئر لاین نے اپنی سٹیٹ آف دی یونین تقریر کے دوران کیا تھا۔ یہ بدھ کو یورپی کمیشن کے کالج آف کمشنرز میں زیرِ بحث آ رہا ہے جس کی وہ سربراہ ہیں۔
منظوری کی صورت میں اس سے اسرائیل کے لیے یورپی یونین کی دو طرفہ حمایت منجمد اور اس کے نتیجے میں تمام ادائیگیاں رک جائیں گی البتہ سول سوسائٹی کے گروپوں اور اسرائیل کی یاد واشم ہولوکاسٹ میموریل کے ساتھ تعاون برقرار رہے گا۔
کمیشن کے مطابق اس اقدام سے مستقبل میں سالانہ تقریباً 60 لاکھ یورو (سات ملین ڈالر) کی مختص رقم رک جائے گی اور جاری ادارہ جاتی منصوبوں کے لیے تقریباً 14 ملین یورو کی تقسیم معطل ہو جائے گی۔
یورپی یونین کی سربراہ "انتہا پسند وزراء" اور "پرتشدد آباد کاروں" کے خلاف پابندیوں کی تجویز پیش کرنے کا بھی ارادہ رکھتی ہیں۔
سار نے اسرائیل پر حماس کے زیرِ قیادت حملے کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا، "یہ غیر معمولی تجویز جس کا اطلاق کبھی کسی دوسرے ملک پر نہیں ہوا، اسرائیل کو نقصان پہنچانے کی ایک واضح کوشش ہے جبکہ ہم بدستور سات اکتوبر کے دہشت گردانہ حملے سے مسلط کردہ جنگ لڑ رہے ہیں۔"
انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل کو مطلع یا اس سے مشورہ نہیں کیا گیا اور انہوں نے خبردار کیا کہ یہ اقدامات "حماس کو شہ دیں گے" اور "جنگ کے خاتمے کی کوششوں کو خطرے میں ڈالیں گے۔"
سفارت کاروں کا خیال ہے کہ غزہ میں اسرائیل کے طرزِ عمل پر یورپی یونین کے 27 رکن ممالک کے درمیان گہرے اختلافات ہیں جن کے پیشِ نظر مجوزہ اقدامات اختیار کیے جانے کا امکان نہیں ہے۔
گذشتہ ہفتے یورپی پارلیمنٹ نے ایک غیر پابند قرارداد منظور کی جس میں فان ڈئر لاین کی دو طرفہ تعاون کو معطل اور ای یو-اسرائیل تجارتی معاہدہ جزوی طور پر معطل کرنے کی تجویز کی توثیق کی گئی۔
قانون سازوں نے اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے وزیرِ خزانہ بیزلیل سموٹریچ اور قومی سلامتی کے وزیر اتمار بین گویر کے خلاف بھی پابندیاں عائد کرنے پر زور دیا۔