ہیومن رائٹس واچ کا اسرائیلی افواج پر جنوبی شام کے باشندوں کو بے گھر کرنے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ہیومن رائٹس واچ (ایچ آر ڈبلیو) نے بدھ کے روز اسرائیلی افواج پر جنوبی شام کے رہائشیوں کو زبردستی بے گھر کرنے کا الزام لگایا۔ اسرائیل نے شام سے ایک نئے سکیورٹی معاہدے میں اس علاقے سے فوج ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔

بیان میں اسرائیلی فوج کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ وہ جنوبی شام میں "ریاست اسرائیل کے شہریوں کا تحفظ کرنے کے لیے" کام کر رہی ہے اور اس کی سرگرمیاں "بین الاقوامی قانون کے مطابق ہیں۔"

یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی جب شام کے سرکاری میڈیا نے کہا کہ اسرائیلی افواج نے جنوب میں متعدد افراد کو گرفتار کر لیا اور ایک دن پہلے دمشق نے کہا کہ وہ واشنگٹن کے ساتھ مل کر اسرائیل سے باہمی "سکیورٹی مفاہمت" کا معاہدہ طے کرنے کے لیے کام کر رہا تھا۔

ایچ آر ڈبلیو نے ایک بیان میں کہا، "دسمبر 2024 سے جنوبی شام کے بعض حصوں پر قابض اسرائیلی افواج نے رہائشیوں کے خلاف کئی طرح کی زیادتیاں کی ہیں۔ ان میں جبری نقلِ مکانی بھی شامل ہے جو ایک جنگی جرم ہے۔"

ایچ آر ڈبلیو نے کہا، "اسرائیلی افواج نے گھروں پر قبضہ کر کے انہیں مسمار کر دیا، رہائشیوں کو ان کی املاک اور ذریعہ معاش سے روک دیا اور من مانی کرتے ہوئے رہائشیوں کو حراست میں لے کر اسرائیل منتقل کر دیا ہے۔"

نیویارک میں مقیم انسانی حقوق کے ادارے نے کہا کہ اس نے واقعات کی تصدیق کے لیے رہائشیوں کے انٹرویو کیے، تصاویر کا جائزہ لیا اور سیٹلائٹ تصاویر کا تجزیہ کیا۔

بدھ کے اوائل میں شام کے سرکاری ٹیلی ویژن نے کہا کہ اسرائیلی افواج نے "متعدد گھروں کو نشانہ بنانے والے چھاپے اور تلاشی کی کارروائی کے دوران" جنوبی صوبے قنیطرہ کے بفر زون میں اور اردگرد کے دیہاتوں سے چار افراد کو گرفتار کر لیا۔

اس ماہ کے شروع میں سرکاری میڈیا نے کہا کہ اسرائیلی افواج نے اسی علاقے میں سات افراد کو پکڑ لیا تھا۔ اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس نے "دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لیے مشتبہ" افراد کو پکڑا اور مزید تفتیش کے لیے اسرائیل لے گئے۔

جولائی میں سویدا کے دروز اقلیتی مرکز میں مہلک فرقہ وارانہ تشدد نے اسرائیلی فوجی کو مداخلت پر آمادہ کیا جس کے بعد شام نے جنوب میں استحکام کی بحالی کے لیے منگل کے روز امریکی اور اردنی حمایت یافتہ لائحہ عمل کا اعلان کیا۔

شام کے ایک فوجی اہلکار نے اے ایف پی کو بتایا کہ سویدا میں تشدد کے بعد شروع ہونے والے عمل میں جنوب سے بھاری ہتھیار واپس لے لیے گئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں