یمنی حوثیوں پر اسرائیلی حملے جاری ، الحدیدہ بندرگاہ اور اس کے انفراسٹکچر کو نشانہ بنایا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

اسرائیلی ریاست نے ایک بار پھر منگل کے روز یمن کی الحدیدہ بندرگاہ پر بمباری کی ہے۔ اسرائیل کی فوج نے اپنی اس بمباری کا جواز یہ پیش کیا ہے کہ بندرگاہ کے انفراسٹرکچر کو اس لیے نشانہ بنایا گیا ہے کہ اسے ایرانی حمایت یافتہ حوثی استعمال کر رہے تھے۔

مقامی ذرائع ابلاغ نے رپورٹ کیا ہے کہ اسرائیلی بمبار طیاروں نے علاقے میں درجنوں حملے کیے جن میں ان کا خصوصی ہدف الحدیدہ بندرگاہ کو نقصان پہنچانا تھا۔

اسرائیلی ریاست نے پچھلے ماہ بھی یمن میں شدید بمباری کر کے حوثیوں کی نمائندگی کرنے والے ان کے وزیراعظم اور ان کی کابینہ کے تقریباً نصف ارکان کو ہلاک کر دیا تھا۔

تاہم اسرائیلی فوج کہتی ہے کہ وہ صرف دہشت گردوں کو نشانہ بناتی ہے۔ یمنی ٹی وی چینل المسیرہ کے مطابق اسرائیلی دشمن نے 12 جگہوں پر بمباری کی۔ ان تمام جگہوں کا تعلق الحدیدہ بندرگاہ سے تھا۔

یمنی حوثیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ ساری کا کہنا ہے اسرائیلی حملوں کے دوران فضائی دفاعی نظام بروئے کار رہا۔ کیونکہ اسرائیلی دشمن نے جنگی جہازوں کے ذریعے ہمارے ملک کے خلاف جارحیت کی ہے۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے اس کا نشانہ انفراسٹرکچر سے متعلق جگہیں اور حوثی رجیم سے متعلق یا ان کے زیر استعمال اشیاء تھیں۔ جن میں بندرگاہ، ہتھیاروں کی سپلائی کا نظام و دیگر اشیاء شامل تھیں۔

اسرایلی فوج کے عربی زبان کے لیے ترجمان نے اس بمباری سے پہلے خبردار کیا تھا کہ اسرائیل حملہ کرے گا اور دشمن کو جواب دے گا۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر اسرائیلی وزیر دفاع کے دیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم خبردار کرتے ہیں حوثیوں کو مسلسل مصائب اور ان حملوں کا سامنا کرنا پڑے گا اور انہیں بھاری اور درد آمیز قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ تاکہ انہیں ہر اس حملے کا مزہ چکھایا جا سکے جو انہوں نے اسرائیلی ریاست پر کرنے کی کوشش کی ہے۔

یاد رہے یمن کے حوثی قبائل جن کی دارالحکومت صنعاء کے علاوہ یمن کے بیشتر حصوں پر حکومت ہے غزہ پر اسرائیل جنگ کے آغاز کے بعد اگلے ہی ماہ سے غزہ کے فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کے لیے اسرائیلی ٹارگٹس کو نشانہ بنا رہی ہیں۔ اس دوران جوں جوں غزہ میں جنگ کو اسرائیل نے اپنے اتحادیوں سے بڑھاوا دیا حوثیوں نے بھی اپنے حملوں کو وسعت دیتے ہوئے اسرائیل کے اتحادیوں کے جہازوں کو بحیرہ احمر میں نشانہ بنانا شروع کر دیا۔

بعدازاں حوثی اسرائیل کے علاوہ امریکہ اور برطانیہ وغیرہ کے بھی بدترین بمباری کا نشانہ بنتے رہے کہ ان کے انفراسٹرکچر اور اسلحے کے ڈپوؤں کو تباہ کیا جا سکے اور ان کی جنگی صلاحیت کو کمزور کیا جا سکے۔

تاہم یمنی حوثی اب تک لڑ رہے ہیں اور اب وہ اسرائیل کے اندر بھی میزائلوں سے حملہ کرنے کی پوزیشن میں آچکے ہیں۔

بدھ کے روز اسرائیل نے حوثی فضائیہ پر حملے کیے۔ صنعاء سے تعلق رکھنے والے میڈیا کے مطابق صنعاء کے علاوہ جاف صوبے کو بھی اسرائیلی فوج نے بطور خاص پچھلے بدھ نشانہ بنایا تھا۔ اس کے نتیجے میں 46 یمنی ہلاک ہوئے اور 160 سے زائد زخمی ہوگئے۔

اگست میں بھی اسرائیلی بمباری کا سلسلہ دارالحکومت صنعاء پر جاری رہا اور وزیراعظم احمد غالب ناصر الرحاوی 9 وزیروں اور کابینہ کے 2 حکام سمیت ہلاک ہوگئے۔

اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں وزیراعظم اور کابینہ کے دیگر ارکان کو نشانہ بنا کر قتل کیا گیا اور یہ حوثیوں کا اب تک کا ہائی پروفائل جانی نقصان تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size