غزہ پر حملے کے دوران ٹرمپ انتظامیہ اسرائیل کو 6 ارب ڈالر کے ہتھیار بیچنے کیلئے سرگرم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

امریکی اخبار *وال سٹریٹ جرنل* کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ اسرائیل کو 6 ارب ڈالر مالیت کے ہتھیار فروخت کرنے کے لیے کانگریس سے منظوری حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان ہتھیاروں میں تقریباً 30 اپاچی ہیلی کاپٹر اور 3250 بکتر بند گاڑیاں شامل ہیں۔

اسرائیلی فوج نے جمعہ کو اعلان کیا ہے کہ اس نے غزہ شہر میں اپنے حملے کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ اسرائیل نے 11 اگست کو غزہ سٹی کا کنٹرول حاصل کرنے کی غرض سے ایک وسیع حملہ شروع کیا تھا۔

اسرائیلی فوج نے اپنا حملہ غزہ شہر پر جنوب مشرق میں واقع زیتون کالونی سے شروع کیا جسے بعد میں "عربات جدعون 2" کا نام دیا گیا۔ اس کارروائی میں بارودی روبوٹوں کے ذریعے گھروں کو اڑایا گیا، توپ خانے سے گولہ باری کی گئی، اندھا دھند فائرنگ کی گئی اور جبری طور پر لوگوں کو بے گھر کیا گیا۔

منگل کے روز فوج نے کہا کہ اس نے غزہ شہر کے مختلف علاقوں میں وسیع زمینی کارروائی شروع کر دی ہے جس میں باقاعدہ اور ریزرو دستے شامل ہیں۔ خاص طور پر 98، 162 اور 36 ویں ڈویژن کے فوجی اس زمینی کارروائی میں حصہ لے رہے ہیں۔

فوج کے ایک بیان میں کہا گیا کہ "عربات جدعون 2" آپریشن کے تحت اس کی ایک ڈویژن نے غزہ شہر اور اس کے اطراف میں اپنی کارروائیوں کو مزید وسعت دینا شروع کر دی ہے۔ اس کے علاوہ ایک اور ڈویژن بھی غزہ شہر اور اس کے نواحی علاقوں میں اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ اسرائیلی فوج نے انکشاف کیا ہے کہ فضائیہ کے ایک طیارے نے وسیم محمود یوسف ابو الخیر کو مار دیا ہے۔ یہ رہنما حماس کی بریج بٹالین میں فوجی انٹیلی جنس کے نائب سربراہ کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔

اسرائیلی فوج نے مزید کہا کہ اس کی افواج خان یونس اور رفح میں بھی اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اسی تناظر میں اسرائیلی فوج نے جمعہ کو اعلان کیا کہ اس نے صلاح الدین سٹریٹ ، جو شمالی غزہ کو جنوبی غزہ سے ملاتی ہے، کو نقل و حرکت کے لیے بند کر دیا ہے۔ یہ سٹریٹ بدھ کے روز عارضی طور پر کھولی گئی تھی تاکہ فلسطینیوں کی نقل مکانی اور جبری ہجرت کے عمل کو تیز کیا جا سکے حالانکہ اس کے ارد گرد کے حالات انتہائی خطرناک تھے۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ اس سڑک کی سکیورٹی صورتحال نہایت خطرناک تھی جس نے فلسطینیوں کو اسے استعمال کرنے اور شمالی غزہ سے جنوبی حصے کی طرف نکلنے سے روک دیا۔

مزید برآں اسرائیلی فوج نے جمعہ کو اعلان کیا کہ اس کے اندازے کے مطابق اگست کے آخر سے اب تک تقریباً 4 لاکھ 80 ہزار افراد غزہ شہر سے جنوبی غزہ کی پٹی کی طرف چلے گئے ہیں۔ واضح رہے حماس اور غزہ کے سول ڈیفنس کے مطابق اسرائیلی فوج کی جانب سے مہاجرین کی تعداد سے متعلق پیش کیے گئے یہ اعداد و شمار مبالغہ آمیز ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں