اسرائیلی فوج نے آج بدھ کے روز غزہ شہر کے اندر مزید پیش قدمی کی جس سے ان فلسطینیوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ گئی ہیں جو اس امید پر اپنے گھروں میں ٹھہرے ہوئے تھے کہ بڑھتا ہوا عالمی دباؤ اسرائیل کو جنگ بندی پر مجبور کر دے گا۔
اسرائیلی حکومت نے شہر کے باسیوں کو جنوب کی جانب نکلنے کا حکم دیا ہے، تاہم کئی شہری عدم تحفظ اور بھوک کے خوف سے نقل مکانی نہیں کر رہے۔ دس لاکھ سے زیادہ آبادی والے شہر غزہ میں اسرائیلی فوج نے اپنے حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اسرائیل اسے حماس کے "آخری گڑھ" کو ختم کرنے کی کارروائی قرار دیتا ہے۔
گزشتہ ہفتوں میں لاکھوں فلسطینی شمالی غزہ سے جنوبی حصے کی طرف نکل گئے مگر اب بھی شہر میں بڑی تعداد میں لوگ پھنسے ہوئے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان کے لیے کوئی محفوظ جگہ موجود نہیں۔
ادھر "العربیہ" کے نمائندے کے مطابق بدھ کو اسرائیلی فوج نے غزہ کے مغربی علاقوں الشاطی کیمپ اور النصر محلے پر شدید بم باری کی۔ اسی دوران فلسطینی ہلالِ احمر نے بتایا کہ اسرائیلی فوج نے تل الهوٰی میں القدس اسپتال کے جنوبی دروازے کو گھیر لیا ہے اور کوئی بھی شخص اسپتال کے اندر یا باہر نہیں جا سکتا۔ ادارے نے عالمی برادری سے طبی عملے اور مریضوں کے تحفظ کے لیے فوری مداخلت کی اپیل کی۔
فلسطینی خبر رساں ایجنسی "صفا" کے مطابق بدھ کی صبح سے اسرائیلی حملوں میں 51 فلسطینی جاں بحق اور متعدد زخمی ہو چکے ہیں۔
اسرائیل نے گزشتہ ہفتے غزہ شہر میں اپنی زمینی کارروائی کو وسیع کیا تھا، جب کہ شہر اور پورا علاقہ پہلے ہی تباہی اور جنگ کی لپیٹ میں ہے۔ اس پیش قدمی کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر فلسطینی نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں اور عالمی سطح پر اسرائیلی کارروائیوں کی مذمت کی جا رہی ہے۔
اسی دوران فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکروں نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنے خطاب میں کہا کہ فرانس نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کر لیا ہے اور ایک قابلِ اعتماد منصوبہ اپنایا ہے جو غزہ کی جنگ ختم کرنے اور دو ریاستی حل کو برقرار رکھنے کی راہ ہموار کرے گا۔ انھوں نے زور دیا کہ اسرائیل میں امن و استحکام اُس وقت تک ممکن نہیں جب تک وہ اپنے ہمسایوں کے ساتھ جنگ میں مبتلا رہے گا۔
برطانوی وزیرِ خارجہ ایویٹ کوپر نے بھی اقوامِ متحدہ کے اجلاس میں اسرائیلی فوجی پیش قدمی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی اقدامات "پہلے سے ہی تباہ کن انسانی بحران" کو مزید ابتر کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق اسرائیلی فوجی کارروائیاں "غیر انسانی، ناقابلِ فہم اور بلاجواز" ہیں اور ان کا نتیجہ صرف فلسطینی بحران کی سنگینی میں اضافہ ہو گا۔
وزيرة الخارجية البريطانية إيفيت كوبر : الحكومة الإسرائيلية تزيد الوضع الإنساني الكارثي في غزة سوءا#قناة_العربية pic.twitter.com/DQcbcvHnB8
— العربية (@AlArabiya) September 24, 2025
اقوامِ متحدہ کی ایک بین الاقوامی تحقیقاتی کمیٹی نے 16 ستمبر کو اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ اسرائیل غزہ میں "نسل کشی" کا ارتکاب کر رہا ہے۔
غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق اکتوبر 2023 میں جنگ کے آغاز سے اب تک غزہ کی پٹی میں 65 ہزار سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت عام شہریوں کی ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی اعداد و شمار کے مطابق 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے میں 1,219 افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں زیادہ تر شہری تھے۔ اُس روز حماس نے 251 افراد کو یرغمال بنایا تھا، جن میں سے اب بھی 47 غزہ میں قید ہیں اور ان میں سے 25 کے بارے میں اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ مر چکے ہیں۔
-
غزہ جانے والے امدادی فلوٹیلا پر 'متعدد ڈرونز' سے حملہ کیا گیا: کارکنان
قافلے کے پانچ جہازوں پر حملہ ہوا: کارکن یاسمین آکار
بين الاقوامى -
غزہ : عمارت پر اسرائیلی بم باری میں 20 بے گھر فلسطینی جاں بحق
غزہ میں شعبہ صحت کے مطابق ایندھن ختم ہونے کے نتیجے میں ہسپتال بند ہونے کے قریب ہیں ...
بين الاقوامى -
عالمی عدالت غزہ نسل کشی کیس کے فیصلے پر عمل درآمد کرے، جنگ کے 'عفریت' کا خاتمہ ہو
’فلسطینی عوام کی اجتماعی سزا کا کوئی جواز نہیں‘: گوٹیرس
بين الاقوامى