سعودی عرب کا مسئلہ فلسطین کے حوالے سے ایک مضبوط مؤقف ہے، یہ بات سعودی مملکت کے وزیرِ خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے ہفتے کے روز اقوامِ متحدہ کو بتائی اور مزید کہا، اب وقت آ گیا ہے کہ اس مسئلے کا منصفانہ اور دیرپا حل تلاش کیا جائے۔
شہزادہ فیصل نے اقوامِ متحدہ کی 80ویں جنرل اسمبلی کے اجلاس میں مملکت کی طرف سے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ فلسطین کا حل بین الاقوامی اور جائز قوانین کے دائرہ کار سے باہر تلاش کرنے کی وجہ سے ہی تشدد مسلسل جاری ہے۔
سعودی عرب کے اعلیٰ سفارت کار نے کہا، "اسرائیل کی جارحیت اور خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے فیصلہ کن اقدامات کرنے میں عالمی برادری کی ناکامی صرف علاقائی اور عالمی سطح پر سلامتی و استحکام کو غیر مستحکم کرنے، سنگین نتائج اور جنگی جرائم اور نسل کشی میں اضافے کا باعث بنے گی۔"
دیگر امور پر بات کرتے ہوئے شہزادہ فیصل نے بحیرۂ احمر، خلیج عدن اور آبنائے کی سلامتی، یہاں کے سفر اور آزادی کے تحفظ کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے دہشت گردی سے نمٹنے اور اس کے ذرائع کو ختم کرنے کی اہمیت اور اس کے علاوہ اے آئی اور خود مختار ہتھیاروں کے فوجی استعمالات کے خطرات اور ان کے مناسب انتظام کے لیے بین الاقوامی قوانین نافذ کرنے کی ضرورت پر بھی روشنی ڈالی۔
وژن 2030
اپنی تقریر کے دوران شہزادہ فیصل نے اپنے وژن 2030 کے تحت سعودی عرب کے لیے ترقی کے طویل مدتی راستے اور ان اہداف کا بھی ذکر کیا جو نوجوانوں اور خواتین کو بااختیار بنانے، رواداری کی اقدار کو فروغ دینے اور بین الاقوامی مواصلت و تعاون کے افق کو وسعت دینے کے لیے حاصل کیے گئے۔