برطانوی حکومت نے ایران سے وابستہ درجنوں افراد اور اداروں پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ یہ اقدام اقوام متحدہ اور یورپی یونین کی جانب سے اٹھائے گئے ایسے ہی اقدامات کے بعد کیا گیا ہے جن کا مقصد وہ کوششیں روکنا ہیں جنہیں برطانیہ ایران کی جوہری پھیلاؤ کی کوششیں قرار دیتا ہے۔
برطانوی وزارت خزانہ نے ایک بیان میں کہا کہ ایران کے جوہری پروگرام سے منسلک متعدد افراد اور اداروں کو شامل کیا گیا ہے جن میں ایران کی وزارتِ توانائی اور وزارتِ تیل بھی شامل ہیں۔ بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ لندن نے ایران مخالف اقدامات کے تحت 9 افراد اور 62 اداروں پر پابندیاں عائد کی ہیں۔
ان پابندیوں میں ایسے افراد کے فنڈز اور اقتصادی وسائل کو منجمد کرنا شامل ہے جو ایران میں یا اس کے استعمال کے لیے جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ یا ترقی میں شریک ہیں یا رہے ہیں۔ یا کسی ایسی سرگرمی جو ایران میں یا اس کے استعمال کے لیے جوہری ہتھیاروں کی ترقی کا باعث بن سکتی ہے میں شریک رہے ہیں۔ برطانوی پابندیوں کی زد میں آنے والوں کو اب اثاثے منجمد کرنے، مالی پابندیوں اور سفر پر پابندی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایران پر دوبارہ پابندیاں عائد کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے جس میں یہ الزامات لگائے گئے ہیں کہ ایران نے 2015 کے اس معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے اس معاہدے کا مقصد تہران کو جوہری بم بنانے سے روکنا تھا۔ ایران جوہری ہتھیاروں کے حصول کی تردید کرتا ہے۔
ٹرگر میکانزم
برطانیہ، فرانس اور جرمنی پر مشتمل یورپ کی "ٹرائیکا" کی جانب سے ایران پر جوہری وعدوں کو پورا نہ کرنے کا الزام لگانے کے بعد، "ٹرگر میکانزم" کو لاگو کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ایک ماہر تعلیم کے مطابق اس میکانزم کا مطلب ایران کے لیے مکمل محاصرہ نہیں ہے۔ اس میکانزم کے تحت پابندیوں میں روایتی ہتھیاروں پر پابندی شامل ہے جس میں ایران کو ہتھیاروں کی کسی بھی فروخت یا منتقلی کو روکا جائے گا اور اس کے جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگراموں سے متعلق اجزاء یا ٹیکنالوجی کی درآمدات، برآمدات یا منتقلی پر پابندی عائد ہو گی۔ اس کے علاوہ یورپی یونین کی طرف سے علیحدہ پابندیاں بھی شامل ہیں۔
سوربون یونیورسٹی میں ایرانی مطالعات کے بین الاقوامی ادارے کے محقق کلیمنٹ ٹرم نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی پابندیوں کے حوالے سے ہمیں شاید مکمل محاصرہ دیکھنے کو نہیں ملے گا، بلکہ اس سے لاگت میں اضافہ ہو گا۔