فلسطینی اتھارٹی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ میں جنگ بندی اور امن کی بحالی کے لیے کی جانے والی کوششوں کا خیر مقدم کیا ہے۔
فلسطین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’وفا‘ کے مطابق بیان میں کہا گیا ہے کہ ’فلسطین کی ریاست صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مخلصانہ اور سنجیدہ کاوشوں کا خیرمقدم کرتی ہے، جو غزہ میں جنگ کے خاتمے کے لیے کی جا رہی ہیں‘۔
فلسطینی اتھارٹی نے صدر ٹرمپ کی اس صلاحیت پر اعتماد کا اظہار کیا کہ وہ امن کی جانب راستہ تلاش کرنے میں کامیاب ہوں گے۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ امریکہ کے ساتھ شراکت داری خطے میں امن قائم کرنے کے لیے نہایت اہم ہے۔
مزید کہا گیا کہ فلسطینی اتھارٹی ایک جامع معاہدے تک پہنچنے کے لیے امریکہ اور اس کے شراکت داروں کے ساتھ تعاون کے لیے پرعزم ہے۔ اس معاہدے میں دو ریاستی حل کی بنیاد پر ایک منصفانہ اور پائیدار امن کا راستہ ہموار کرنے کی ضمانت شامل ہو گی۔
بیان میں یہ عہد بھی کیا گیا کہ امریکی تجاویز کے مطابق اصلاحات نافذ کی جائیں گی، جبکہ فلسطینی اتھارٹی ایک جدید، جمہوری اور غیر مسلح ریاست کے قیام کی خواہاں ہے جو پرامن انتقالِ اقتدار کے اصولوں پر کاربند ہو۔
اتھارٹی نے مزید کہا کہ دو برس کے اندر یونیسکو کے معیارات کے مطابق نصاب تعلیم کی اصلاحات مکمل کی جائیں گی اور ایک متحدہ سماجی بہبود کا نظام قائم کیا جائے گا جس کی بین الاقوامی سطح پر جانچ ہوگی۔
واضح رہے کہ وائٹ ہاؤس نے پیر کو صدر ٹرمپ کا امن منصوبہ جاری کیا جس کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو اس پر متفق ہو چکے ہیں تاہم حماس کی منظوری ابھی باقی ہے۔
اس منصوبے میں فوری طور پر جنگ بندی، مرحلہ وار اسرائیلی فوج کے انخلا اور تمام قیدیوں کی رہائی کی شق شامل ہے۔
مزید یہ کہ صدر ٹرمپ کی سربراہی میں ایک ’’امن کمیٹی‘‘ قائم ہوگی جس میں سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر بھی شامل ہوں گے۔ غزہ کے انتظامی امور ایک غیر سیاسی فلسطینی ٹکنوکریٹس کمیٹی کے سپرد ہوں گے جس میں حماس شامل نہیں ہوگی۔
امریکی منصوبے کے تحت عرب اور بین الاقوامی شراکت داروں کے تعاون سے ایک بین الاقوامی فورس بھی تشکیل دی جائے گی جو فوری طور پر غزہ میں تعینات ہوگی۔ یہ فورس اردن اور مصر سے مشاورت کے بعد متفقہ فلسطینی پولیس فورس کو تربیت اور معاونت فراہم کرے گی۔