نیتن یاہو مغربی کنارے کا جبری الحاق نہیں کر رہا : سرکردہ یہودی آبادکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

مغربی کنارے میں قائم کی گئی ایک یہودی بستی کے رہنے والے سرکردہ یہودی آبادکار نے کہا ہے کہ وہ نیتن یاہو سے یہ یقین دہانی حاصل کرنے میں ناکام ہوگیا ہے کہ نیتن یاہو مغربی کنارے کا اسرائیل کے ساتھ الحاق کرے گا۔ اس سرکردہ یہودی آبادکار نے اس امر کا اظہار پیر کے روز صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے نیتن یاہو کی ملاقات سے کچھ دیر پہلے کیا ہے۔

سامریہ ریجنل کونسل کے سربراہ یوسی دگن کا کہنا تھا نیتن یاہو کے ساتھ ہماری ملاقات ہوئی اس نے ہماری پوری بات سنی اس ناطے یہ بڑی بامعنی ملاقات تھی۔ لیکن جب ہم وہاں سے واپس آئے تو ہم اس بات پر پریشان ہوئے کہ ہمارے درمیان کوئی کھلی بات چیت نہیں ہوسکی۔

یوسی دگن مغربی کنارے کے شمال میں قائم یہودی آبادکاروں کے نمائندہ ہیں۔ وزیراعظم نیتن یاہو سے اپنی ملاقات کے بارے میں انہوں نے مزید کہا کہ نیتن یاہو نے یہ بالکل نہیں کہا کہ مغربی کنارے پر اقتدار کب تک پھیل سکے گا۔
وہ نیتن یاہو سے ملاقات کے لیے بطور خاص نیو یارک پہنچے تھے اور اپنی کونسل کے وفد کی قیادت کر رہے تھے۔

نیتن یاہو سے ملاقات اتوار کے روز کی گئی تاکہ ان پر دباؤ ڈالیں اور اصرار کریں کہ وہ ٹرمپ سے اپنی ملاقات کے دوران مغربی کنارے کا اسرائیل سے الحاق کرنے پر زور دیں گے۔ مگر عمومی طور پر یہی ہے کہ ٹرمپ سے نیتن یاہو کی ملاقات میں غزہ کی جنگ بندی پر ہی زیادہ بات ہوگی کیونکہ مسلم رہنماؤں کو ٹرمپ یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ اسرائیل کو مغربی کنارے تک اپنا اقتدار پھیلانے کی اجازت نہیں دیں گے۔
خیال رہے کہ یہ مغربی کنارا 1967 سے اسرائیلی قبضے میں ہے۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ نہیں ہونے جا رہا کہ اسرائیل مغربی کنارے کا جبری الحاق اپنے ساتھ کر لیں۔

صدر ٹرمپ یہ بھی بہت پختگی کے ساتھ کہہ رہے ہیں کہ غزہ میں تقریباً دو سال سے جاری جنگ اب جنگ بندی معاہدے کے قریب ہے اور اسرائیل اور حماس ایک دوسرے سے معاہدہ کرلیں گے۔ تاہم عرب رہنما جو غزہ جنگ بندی کے حوالے سے تیار ہیں مغربی کنارے کے اسرائیل کے ساتھ الحاق کی مخالفت کرتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں