اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کی جانب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ منصوبے کی حمایت کے اعلان کے بعد اسرائیل کے اندر اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں۔
برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق نیتن یاھو نے اسرائیل کو مکمل فتح دلانے کا وعدہ کیا تھا، لیکن وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ کے ساتھ ان کی موجودگی شکست خوردہ نظر آئی۔ رپورٹ کے مطابق ٹرمپ سے قربت کا تاثر نیتن یاھو کو ان کی حکومت سے محروم کر سکتا ہے کیونکہ ان کے انتہائی دائیں بازو کے اتحادی بارہا دھمکی دے چکے ہیں کہ اگر زیادہ رعایتیں دی گئیں تو وہ حکومت چھوڑ دیں گے۔
نیتن یاھو کے حکومتی اتحادی بزلئیل سموٹریچ اور ایتمار بن گویر نے کھل کر مطالبہ کیا ہے کہ غزہ کو اسرائیل میں شامل کیا جائے، فلسطینیوں کو نکالا جائے اور دوبارہ یہودی بستیاں تعمیر کی جائیں۔ دونوں رہنما کسی بھی قیمت پر فلسطینی اتھارٹی کے غزہ میں کردار اور فلسطینی ریاست کے قیام کے سخت مخالف ہیں۔
اسرائیلی نشریاتی ادارے کے مطابق نیتن یاھو نے اپنے اتحادی وزیروں کو یقین دلایا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی غزہ پر حکومت نہیں کرے گی۔ انہوں نے کیمروں کے سامنے کہا کہ "یقیناً نہیں، یہ تو معاہدے میں لکھا ہی نہیں گیا۔ ہم نے صرف ایک بات کہی ہے کہ ہم ریاستِ فلسطین کی ہر کوشش کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے"۔
اندرونی دباؤ اور بیرونی ردعمل
مبصرین کے مطابق نیتن یاھو کوشش کر رہے ہیں کہ اس منصوبے کو ایک سیاسی کامیابی کے طور پر پیش کریں تاکہ عسکری ناکامیوں کا مداوا ہو سکے۔ خاص طور پر قیدیوں کا معاملہ ان کے لیے سب سے بڑا دباؤ بن چکا ہے جس پر اہل خانہ مسلسل احتجاج کر رہے ہیں۔
اسی دوران سموٹریچ نے امریکی منصوبے کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا اور اسے "سفارتی ناکامی اور 7 اکتوبر کے سبق فراموش کرنے" کے مترادف قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ "یہ سب آنسوؤں پر ختم ہوگا اور ہمارے بچے دوبارہ غزہ میں لڑنے پر مجبور ہوں گے"۔
ادھر کئی عرب اور مسلمان ممالک، فلسطینی اتھارٹی، یورپی یونین، چین اور جرمنی نے اس تجویز کا خیرمقدم کیا ہے۔ حماس نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ اس منصوبے کا مطالعہ کرے گی اور جنگ بندی کے کسی بھی عملی اقدام کو مثبت انداز میں لے گی۔